ایران میں نظام کی تبدیلی کے خواہاںامریکہ اور اسرائیل کے منصوبے ناکام ہو گئے : ایرانی وزیرخارجہ

تاثیر 10 مارچ ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

تہران،10مارچ:ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے منگل کے روز کہا ہے کہ ایران میں نظام کی تبدیلی کے لیے امریکہ اور اسرائیل کے منصوبے ناکام ہو چکے ہیں۔ عراقچی نے اس بات پر زور دیا کہ ان کا ملک جب تک ضروری ہوا” میزائل حملے جاری رکھنے کے لیے تیار ہے۔انہوں نے امریکی صدر کے اس بیان کے بعد کسی بھی قسم کے مذاکرات کے امکان کو مسترد کر دیا … جس میں ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران کے ساتھ جنگ ’جلد‘ ختم ہو جائے گی۔عراقچی نے امریکی چینل ’پی بی ایس نیوز‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا “ہم ان کے خلاف میزائل حملے جاری رکھنے کے لیے تیار ہیں جب تک ضرورت پڑی اور جہاں کہیں ضرورت پڑی۔ انہوں نے اشارہ کیا کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات اب تہران کے ایجنڈے میں شامل نہیں ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ نے اس بات کی تصدیق کی کہ امریکیوں کے ساتھ مذاکرات فی الحال ایجنڈے پر نہیں ہیں، انہوں نے یاد دلایا کہ ان کے ساتھ معاملات میں ایران کا تجربہ ’انتہائی تلخ‘ رہا ہے۔انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ نئے رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای کے لیے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے کوئی بھی عوامی بیان دینا قبل از وقت ہے، ان کے خطابات اور تبصرے بعد میں جاری کیے جائیں گے۔
عراقچی نے مزید کہا کہ خطے میں تیل کی نقل و حمل میں تعطل ایران کی وجہ سے نہیں بلکہ اسرائیل اور امریکہ کے حملوں اور جارحیت کا نتیجہ ہے، جس نے پورے خطے کو غیر محفوظ بنا دیا ہے۔