تاثیر 10 مارچ ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
واشنگٹن/ماسکو، 10 مارچ: ایران کے ساتھ جاری امریکہ اسرائیل جنگ اور مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششوں کے ابتدائی آثار ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ فوجی آپریشن کے آغاز کے بعد پہلی بار پیر کی رات روسی صدر ولادیمیر پوتن کے ساتھ طویل ٹیلی فونک گفتگو کی۔ دونوں نے تقریباً ساٹھ منٹ تک بات چیت کی۔ زیادہ تر گفتگو ایران پر مرکوز رہی۔ ٹرمپ نے کچھ دیر اپنے ہم منصب سے یوکرین جنگ پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ماسکو ٹائمز، امریکی نیوز ویب سائٹ ایکسوس،دی وال اسٹریٹ جنرل اور دی ٹائمز (لندن) کی رپورٹوں کے مطابق کریملن نے دونوں رہنماؤں کی بات چیت کے بارے میں ایک بیان جاری کیا، جس میں کہا گیا کہ وہ پیر کو تقریباً ایک گھنٹے تک جاری رہیں۔ ٹرمپ نے پیوٹن کے ساتھ ایران اور یوکرین کی جنگوں پر تبادلہ خیال کیا۔کریملن کے ترجمان نے پوتن کے حوالے سے ایک بیان میں کہا کہ ٹرمپ نے ایران جنگ کے جلد حل کے لیے اپنے ہم منصب کو کئی تجاویز دیں۔ پیوتن نے کہا کہ وہ خلیجی رہنماؤں کے ساتھ ساتھ ایرانی صدر مسعود پیزشکیان سے بھی رابطے میں ہیں۔ کریملن نے کہا کہ دونوں نے وینزویلا اور توانائی کی صنعت پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

