تاثیر 18 مارچ ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
واشنگٹن،18 مارچ:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بات پر زور دیا ہے کہ امریکہ کو اب شمالی بحر اوقیانوس کے فوجی اتحاد (نیٹو) کی حمایت کی ضرورت نہیں رہی۔ انہوں نے نیٹو ممالک کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں حصہ لینے کی آمادگی نہ ہونے پر سخت تنقید کی حالانکہ یہ ممالک تہران کے ایٹمی ہتھیاروں کے حصول کے خلاف واشنگٹن کے موقف کی تائید کرتے ہیں۔ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا ایپ “ٹروتھ سوشل” پر ایک پوسٹ میں واضح کیا کہ نیٹو کے بیشتر ممالک نے امریکہ کو مطلع کر دیا ہے کہ وہ فوجی مداخلت کی خواہش نہیں رکھتے۔ انہوں نے اتحاد کو “ون وے ٹریفک” قرار دیتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن اپنے ارکان کے تحفظ کے لیے بھاری مالی بوجھ اٹھاتا ہے لیکن ضرورت کے وقت اسے بدلے میں کوئی تعاون نہیں ملتا۔انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ امریکی فوجی کارروائیوں نے “شاندار کامیابی” حاصل کی ہے اور ایرانی فوج بشمول اس کا بحری بیڑہ، فضائیہ اور فضائی دفاعی نظام مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا ہے۔ ان کے بہ قول ہر سطح پر ایرانی قیادت کا بھی صفایا کر دیا گیا ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے زور دیا کہ اس کامیابی کے بعد امریکہ کو نیٹو یا جاپان، آسٹریلیا اور جنوبی کوریا جیسے دیگر شراکت داروں کی مدد کی ضرورت نہیں رہی۔ انہوں نے کہا کہ ان کا ملک “دنیا کا طاقتور ترین ملک” ہونے کے ناطے کسی بھی بیرونی امداد کے بغیر کارروائی کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔اسی تناظر میں امریکی صدر نے وائٹ ہاؤس میں آئرلینڈ کے وزیراعظم مائیکل مارٹن کے استقبال کے موقع پر ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ امریکہ نے “ایرانی فضائیہ کا مکمل خاتمہ” کر دیا ہے۔ ا

