تاثیر 18 مارچ ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
مغربی بنگال کی سیاست میں ممتا بنرجی کا نام ایک طاقتور علامت بن چکا ہے۔ 2011 میں انھوں نے 34 سالہ بائیں بازو کی حکومت کا خاتمہ کر کے تاریخ رقم کی تھی۔ اب2026 کے اسمبلی انتخابات میں وہ چوتھی بار ترنمول کانگریس کی قیادت کر رہی ہیں۔ اگر وہ کامیاب ہوئیں تو بنگال کی پہلی ایسی وزیراعلیٰ بن جائیں گی، جنہوں نے مسلسل چار بار فتح حاصل کی ہو۔ لیکن یہ انتخاب ان کے لئے اب تک کا سب سے سخت امتحان ثابت ہو نے والاہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ممتا بنرجی اس بار بی جے پی کی لہر کو روک پائیں گی؟
ممتا بنرجی کے سامنے سب سے بڑی دیوار اینٹی انکمبنسی ہے۔ سولہ سال کی حکومت کے بعد عوام میں قانون و انتظام ، بے روزگاری اور ترقی کے مسائل پر ناراضگی واضح ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ2001 کا انتخاب بائیں بازو کو ہٹانے کا تھا، جبکہ 2026 انتخاب بنگال کو بچانے کی جنگ ہے۔ اس کے علاوہ ووٹر لسٹ کی خاص جائزہ مہم (ایس آئی آر) نے بھی صورتحال کو پیچیدہ کر دیا ہے۔ 2021کے انتخابات میں7 کروڑ 30 لاکھ ووٹرز تھے، اب 63 لاکھ سے زائد نام کاٹ دیے گئے ہیں۔ کئی لاکھ اب بھی تفتیش کے دائرے میں ہیں۔ یہ پہلا موقع ہے جب بنگال میں ووٹروں کی تعداد کم ہوئی ہے۔ اگرچہ متاثرہ افراد اپنے نام واپس لسٹ میں جڑوا سکتے ہیں، مگر یہ عمل بہت سے غریب اور اقلیتوں میں خوف اور بے اعتمادی پیدا کر رہا ہے۔
اس کے ساتھ ہی بدعنوانی کے الزامات بھی ممتا پر بھاری پڑ رہے ہیں۔ پی ڈی ایس اسکینڈل، مویشی اسمگلنگ، ٹیچر بھرتی گھوٹالہ اور کئی وزراء کی گرفتاریاں شہری علاقوں، خصوصاً کولکتہ میں ناراضگی بڑھا رہی ہیں۔مبصرین کا ماننا ہے کہ شہری ووٹرز ان مسائل کے پیش نظر ممتا کے خلاف ووٹ دے سکتے ہیں۔ مزید برآں، وقف ترمیمی قانون کے معاملے میں ممتا نے عوامی طور پر مخالفت کی تھی اور کہا تھا کہ وہ اسے بنگال میں نہیں لگنے دیں گی۔ مگر حکومت نے خاموشی سے اسے نافذ کر دیا۔ مرشدآباد میں اس کے خلاف پرتشدد مظاہرے ہوئے۔اس تضاد سے بھی ایک طبقے میں مایوسی دیکھی جا رہی ہے۔تاہم ممتا بنرجی نے ہتھیار نہیں ڈالے۔ انتخابات سے ٹھیک پہلے انہوں نے عوام کو للچانے والے بڑ ے منصوبے شروع کئے۔’’ لکشمی بھنڈار اسکیم‘‘ میں عام خواتین کو ماہانہ ایک ہزار کی بجائے 1500 روپے اور ایس سی/ایس ٹی خواتین کو1700 روپے کر دیے گئے۔ بے روزگار نوجوانوں کے لئے’ ’بنگلار یووا ساتھی‘ ‘کے تحت1500روپے ماہانہ امداد کا اعلان کیا گیا۔ سرکاری ملازمین اور پنشنرز کا 10 ہزار کروڑ روپے کا ڈی اے ادا کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔ یہاں تک کہ پجاریوں اور مؤذنین کا معاوضہ بھی بڑھا دیا گیا۔ یہ سب اعلانات بتاتے ہیں کہ ممتا اس بار مقابلے کو ہلکا نہیں لے رہی ہیں۔دوسری جانب بی جے پی بھی پوری طاقت سے میدان میں ہے۔ اس کی کوشش ہے کہ مذہبی پولرائزیشن اور ترقی کے وعدوں سے ممتا کی حکومت کو چیلنج کیا جائے۔ مگر زمینی حقائق کے حوالے سے بعض مبصرین کا یہی کہنا ہے کہ بنگال کے عوام اب بھی ممتا کے کرشمے پر یقین رکھتے ہیں۔ان کا ماننا ہے کہ تمام ترالزامات کے باوجود ممتا کی مقبولیت اور عوامی رابطہ دوسری پارٹیوں سے کہیں آگے ہے۔
آخر میں، چاہے ممتا بنرجی چوتھی بار مسندِ اقتدار پر فائز ہوں یا بی جے پی کوئی تاریخی کامیابی حاصل کر لے،23 اور 29 اپریل کو ہونے والے انتخابات اور4 مئی کو آنے والے نتائج میں سب سے بڑی فتح جمہوریت کی ہی ہو نے والی ہے۔ پچھلے کئی عشروں سے مغربی بنگال نے انتخابات کے دوران اپنی سیاسی پختگی اور ذمہ داری کا مظاہرہ کیا ہے۔ 2011میں بائیں بازو کی طویل حکومت کا خاتمہ ہوا تو بھی، اور 2021 میں تین ماہ تک چلنے والے آٹھ مرحلہ جاتی انتخابات میں بھی، عوام نے پرامن طریقے سے اپنی رائے کا اظہار کیا۔ اس بار اگرچہ ووٹر لسٹ میں تبدیلیوں، سیاسی الزامات اور سماجی کشیدگی کے باعث فضا قدرے مکدر ہے، مگر بنگال کے عوام نے ہمیشہ انتخابی حق کا احترام کیا ہے اورامید ہے آئندہ بھی کیا کریں گے۔
ووٹروں کی بڑی تعداد کا حصہ لینا، پرامن ماحول میں پولنگ بوتھوں پر قطاریں لگانا، اور آزادانہ انتخابی عمل میں شرکت کرنا ہی اس بات کا زندہ ثبوت ہوگا کہ بھارت کی جمہوریت نہ صرف زندہ ہے بلکہ مضبوط بھی ہے۔چنانچہ حالات کتنے بھی مشکل ہوں، تنازعات کتنے بھی شدید ہوں، آخر کار عوام کی مرضی ہی غالب آئے گی۔ یہی جمہوریت کی اصل خوبصورتی اور طاقت ہے کہ وہ نفرت، خوف اور دباؤ کے باوجود عوامی فیصلے کو سب سے اوپر رکھتی ہے۔ مغربی بنگال کے یہ انتخابات نہ صرف ریاست بلکہ پورے ملک کے لئے ایک پیغام ہوں گے کہ بھارتی جمہوریت کی جڑیں گہری ہیں اور وہ کسی بھی چیلنج سے گھبرانے والی نہیں ہیں۔ جب تک عوام ووٹ ڈالنے کے لئے نکلتے رہیں گے ، جمہوریت زندہ رہے گی اور ترقی کی راہ ہموار کرتی رہے گی۔

