مغربی بنگال : ایس آئی آر اور اُس کے تقاضے

تاثیر 25 مارچ ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

مغربی بنگال میں ایک ماہ بعد ہونے والے اسمبلی انتخابات سے قبل ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) نے ریاست کے لاکھوں شہریوں کو عجیب و غریب الجھن میں مبتلا کر دیا ہے۔ حتمی ووٹر لسٹ ،جو گزشتہ 28 فروری کو جاری ہوئی تھی، اس میں تقریباً 60 لاکھ ناموں کو’’انڈر ایڈجیوڈیکیشن‘‘ یعنی ابھی فیصلہ زیر التوا ہے، کے طور پر نشان زد کیا گیا تھا۔ یہ تعداد ریاست کے کل ووٹروں کا تقریباً 8.5 فیصد بنتی ہے۔ اس کے بعد گزشتہ سوموار( 23 مارچ) کی آدھی رات کو الیکشن کمیشن آف انڈیا نے پہلی سپلیمنٹری لسٹ جاری کی تھی۔ اس لسٹ میں ان ناموں کا فیصلہ شامل ہے، جن کی اہلیت پر عدالتی افسران نے غور کیا تھا۔مگر اس کے بعد سے اب تک یہ بات واضح نہیں ہو سکاہے کہ ان 60 لاکھ مشکوک کیسوں میں سے کتنے ووٹرز کا نام ووٹر لسٹ سے ہٹا دیا گیا ہے، یعنی کتنے لوگوں نے اپنےووٹ کا حق کھو دیا ہے۔ حالانکہ چیف الیکٹورل آفیسر منوج کمار اگروال نے سوموارکو یہ بیان دیا تھا کہ ڈیش بورڈ کے مطابق تقریباً 29 لاکھ کیسوں کا فیصلہ ہو چکا ہے۔ تاہم، یہ واضح نہیں کہ ان میں سے کتنے نام سپلیمنٹری لسٹ میں شامل کیے گئے اور کتنے حذف ہوئے ہیں۔ لسٹ بوتھ لیول پر دستیاب ہے، مگر سرور مسائل اور مجموعی اعداد و شمار کی عدم دستیابی نے صورتحال کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔
ظاہر ہے،یہ سارا عمل سپریم کورٹ کی نگرانی میں ہو رہا ہے۔ سپریم کورٹ نے ریاستی حکومت اور الیکشن کمیشن کے درمیان اعتماد کی کمی کو دور کرنے کے لئے عدالتی افسران کی تعیناتی کا حکم دیا ہے۔ایس آئی آر کے دوران الیکشن کمیشن نے 1 کروڑ 25 لاکھ سے زیادہ نوٹس جاری کیے تھے۔ ان نوٹسوں میں ان لوگوں کو نشانہ بنایا گیا، جن کے نام مبینہ طور پر مردہ، ڈپلیکیٹ ،کہیں اور منتقل ہو چکے یا کسی دوسری وجہ سےووٹ ڈالنے کے اہل نہیں تھے۔اس عمل کے نتیجے میں ریاست میں ووٹروں کی تعداد 7 کروڑ 66 لاکھ سے گھٹ کر تقریباً 6 کروڑ 44 لاکھ رہ گئی ہے۔ اور 61 لاکھ سے زیادہ نام حتمی طور پر ووٹر لسٹ سے ہٹا دیے گئے ہیں۔
یہ صورتحال سیاسی طور پر بھی حساس ہے۔مغربی بنگال غیر بی جے پی حکومت والی چند ریاستوں میں شامل ہے۔ مخالفین، خاص طور پر ترنمول کانگریس، اس عمل کو ایک طرفہ کارروائی قرار دے رہے ہیں، جبکہ بعض مبصرین کا خیال ہے کہ یہ شفافیت لانے کی کوشش ہے۔ سرحدی اضلاع جیسے مالدہ، مرشدآباد اور شمالی 24 پرگنہ میں’’انڈر ایڈجیوڈیکیشن‘‘ کے کیسز کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ظاہر ہے اس سے صورتحال کی وجہ سے اقلیتوں اور پسماندہ طبقات میں عدم تحفظ کا احساس شدیدہو گیا ہے۔
واضح ہو کہ اسمبلی انتخابات کی تاریخ کا اعلان گزشتہ 15 مارچ کو الیکشن کمیشن آف انڈیا نے کیا تھا۔ اس وقت بھی تقریباََ 60 لاکھ ووٹرز کو یہ پتا نہیں تھا کہ وہ ووٹ ڈال سکیں گے یا نہیں۔ اب جب کہ انتخابات صرف ایک ماہ دور ہیں، تب بھی بہت سے ووٹنگ مراکز پر آن لائن ڈیٹا دستیاب نہیں ہے۔سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ کتنے ووٹرز کا نام ہٹایا گیا ہے، اس سے انتخابات کے نتیجے پر اثر کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا ہے۔2021 کے اسمبلی انتخابات میں کئی سیٹوں پر جیت کا فرق بہت کم تھا۔ مثال کے طور پر دینہاٹا سیٹ پر بی جے پی امیدوار نے صرف 57 ووٹوں سے جیت حاصل کی تھی۔ اس لئے اگر بڑی تعداد میں ووٹرز کا نام ہٹایا گیا ہے یا ایسے کیسز ابھی زیر التوا ہیں تو ظاہر ہے کہ انتخابات کے نتائج کا اس سے متاثر ہونا لازمی ہے۔ البتہ اس کا درست اندازہ لگانے کے لئے تفصیلی سروے اور سیٹ وار اعداد و شمار کی ضرورت ہے۔
یہ اطمینان کی بات ہے کہ الیکشن کمیشن نے متاثرہ ووٹرز کے لئے اپیل کا راستہ بھی کھلا رکھا ہے۔ جن لوگوں کا نام ’’انڈر ایڈجیوڈیکیشن‘‘ میں نشان زد ہے یا جن کا نام ووٹر لسٹ سے ہٹا دیا گیا ہے، وہ دو طریقوں سے اپیل کر سکتے ہیں۔پہلا طریقہ آن لائن ہے: وہ الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ www.ecinet.eci.gov.in پر جا کر اپیل دائر کر سکتے ہیں۔دوسرا طریقہ آف لائن ہے: وہ اپنے ضلع مجسٹریٹ (ڈی ایم)  یا سب ڈویژنل آفیسر (ایس ڈی او)کے دفتر میں جا کر آف لائن اپیل جمع کرا سکتے ہیں۔الیکشن کمیشن نے اس سارے عمل کی نگرانی کے لئے 19 اپیلٹ ٹریبونلز قائم کیے ہیں۔ ان ٹریبونلز میں سابق جج شامل ہوں گے، جو ان اپیلوں کی سماعت کریں گے۔تاہم، ابھی تک اپیلوں کے فیصلے کی رفتار بہت سست ہے۔اس کے علاوہ شفافیت پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ بہت سے ووٹرز کی یہ شکایت ہے کہ ان کی اپیل پر ابھی تک کوئی کارروائی نہیں ہوئی ہے، اگر ہوئی بھی ہے تو انھیں اس کی کوئی خبر نہیں ہے ۔
ظاہر ہے،یہ معاملہ براہ راست حق رائے دہی سےجڑا ہے۔ الیکشن کمیشن کو چاہئے کہ وہ جلد از جلد حذف شدہ اور شامل کیے گئے ووٹرز کی مکمل تفصیلات جاری کرے، تاکہ الجھاؤ دور ہو۔ تمام سیاسی جماعتوں کی بھی یہ ذمہ داری ہے کہ امن و شفافیت کو یقینی بنانے میں تعاون کریں۔مغربی بنگال میں ایس آئی آر اگر شفاف اور غیر جانبدار طریقے سے مکمل ہوا تو یقیناََ ایک بہتر قدم ہوگا۔اور خدا نخواستہ اگر الجھاؤ برقرار رہا تو یہ نہ صرف انتخابات کی ساکھ پر سوالیہ نشان کھڑا ہوگا بلکہ اس سے لاکھوں عام شہریوں کا آئینی حق متاثر ہوگا۔ وقت کا تقاضہ ہے کہ الیکشن کمیشن اور ریاستی انتظامیہ مل کر ووٹروں کا اعتماد بحال کریں، تاکہ جمہوری عمل مضبوط اور معتبر رہے۔