تاثیر 19 مارچ ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
سنگھواڑہ دربھنگہ محمد (مصطفیٰ)سنگھواڑہ تھانہ کے بھرواڑہ نگر پنچایت میں ایک نہایت افسوسناک اور دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا، جہاں گھریلو تنازع کے بعد بیوی نے تالاب میں چھلانگ لگا دی اور اسے بچانے کی کوشش میں شوہر بھی پانی میں کود گیا، جس کے نتیجے میں دونوں کی موت ہو گئی۔ رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں عید سے محض 2 دن قبل پیش آنے والے اس سانحہ نے علاقے میں سنسنی پھیلا دی ہے اور اہل خانہ میں کہرام مچ گیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق بھرواڑہ وارڈ نمبر 6 کے رہائشی 45 سالہ ثناء اللہ اور ان کی 40 سالہ اہلیہ حسرت پروین کے درمیان سحری کے وقت گھریلو جھگڑا ہوا۔ جھگڑے کے بعد علی الصبح تقریباً 5 بجے حسرت پروین گھر سے قریب واقع پنپیہی تالاب پہنچیں اور اچانک پانی میں چھلانگ لگا دی۔ شوہر نے انہیں روکنے کی بھرپور کوشش کی، مگر ناکام رہے اور بیوی کو بچانے کے لیے خود بھی تالاب میں کود پڑے، تاہم گہرے پانی کے باعث دونوں ڈوب گئے اور جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی بڑی تعداد میں مقامی لوگ موقع پر جمع ہو گئے۔ بعد ازاں غوطہ خوروں کی مدد سے کافی جدوجہد کے بعد دونوں کی لاشیں تالاب سے باہر نکالی گئیں۔
ذرائع کے مطابق حسرت پروین نے 10 دن قبل بھی اسی تالاب میں کود کر اپنی جان دینے کی کوشش کی تھی، تاہم اس وقت مقامی افراد اور ڈائل 112 پولیس کی بروقت مداخلت سے انہیں بچا لیا گیا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ وہ گروپ لون کے دباؤ اور مالی پریشانی کے باعث ذہنی تناؤ میں رہتی تھیں، جبکہ میاں بیوی کے درمیان گھریلو کشیدگی بھی جاری تھی۔
متوفی جوڑے کے اہل خانہ میں ایک بیٹا حشمت اللہ عرف اخلاق شامل ہے جو دہلی میں مزدوری کرتا ہے، جبکہ بیٹی نازیہ پروین کی شادی 5 سال قبل ہو چکی ہے۔ واقعے کے وقت گھر میں میاں بیوی کے علاوہ کوئی اور موجود نہیں تھا۔
سنگھواڑہ تھانہ کے تھانیدار بسنت کمار نے بتایا کہ دونوں لاشوں کو تحویل میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے ڈی ایم سی ایچ بھیج دیا گیا ہے اور پولیس معاملے کی مزید تحقیقات میں مصروف ہے۔

