جموں میں 256 غیر قانونی قبضے کی نشاندہی

تاثیر 5 اپریل ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

جموں, 05 اپریل : جموں و کشمیر حکومت نے اسمبلی میں بتایا کہ ضلع جموں کے نکّی توی علاقے میں دریائے توی کے فلڈ پلینز پر 256 غیر قانونی طور پر قبضہ کی نشاندہی کی گئی ہے، جہاں تقریباً 328 کنال اور 15 مرلہ قیمتی اراضی پر قبضے کیے گئے ہیں۔حکومت کے مطابق نکّی اوی، جو اپنی سرسبز و شاداب فضا کی وجہ سے جموں کا آکسیجن چیمبر بھی کہلاتا ہے،وہ بڑے پیمانے پر غیر قانونی تعمیرات کے باعث دباؤ کا شکار ہو رہا ہے۔ یہ علاقہ دریائے توی کی دو شاخوں کے درمیان واقع ہے اور 5000 کنال سے زائد رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔یہ انکشاف وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے اسمبلی میں بی جے پی کے رکن اسمبلی وکرم رندھاوا کے سوال کے جواب میں کیا۔ انہوں نے بتایا کہ اس معاملے کی تفصیلات نیشنل گرین ٹریبونل (این جی ٹی) کے سامنے پیش کی جا چکی ہیں، جہاں یہ کیس ماحولیاتی نقصان سے متعلق زیر سماعت ہے۔سرکاری جواب کے مطابق جموں کے ڈویژنل کمشنر نے 23، 30 مارچ اور یکم اپریل 2026 کو اس سلسلے میں رپورٹس پیش کی ہیں، جبکہ کیس کی اگلی سماعت 24 اپریل 2026 کو نئی دہلی میں ہوگی۔ڈپٹی کمشنر کی رپورٹ کے حوالے سے وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ مذکورہ علاقے میں 256 غیر قانونی قابضین کی نشاندہی کی گئی ہے، تاہم ان اندراجات کا ریکارڈ ریونیو دستاویزات میں موجود نہیں ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ حالیہ اچانک سیلاب کے دوران 17 مکانات مکمل طور پر بہہ گئے، تاہم خوش قسمتی سے کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔