تاثیر 2 اپریل ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
مدھوبنی(سنگرام)2اپریل:۔شمالی بہارکے ضلع مدھوبنی کا سرحدی علاقہ جھنجھارپور اب ایک صنعتی ہب کے طورپر ابھررہاہے ، اس کا خواب ایک باپ نے دیکھاتھا اس خواب کو اب بیٹاپوراکررہاہے ، چند سال پہلے تک سیلاب اور خشک سالی کی تباہ کاریوں کی لپیٹ میں گھرارہتاتھا جس کی وجہ سے اس اسمبلی حلقہ کے بیشتر گاوں کے رہائشیوںکی معاشی حالت قابل رحم تھی،اکثروبیشتراس علاقہ کے لوگوںکو سیلاب اور خشک سالی کی تباہ کاریوں کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ یہی بنیادی وجہ تھی کہ علاقہ کے لوگ روزگار اورذریعہ معاش کی تلاش میں ملک کے بڑے بڑے شہروں کارخ کیاکرتے تھے اور معاشی طورپر اپنے کوخودکفیل بنانے کی کوشش میں مصروف رہا کرتے تھے لیکن سب سے بڑی روکاوٹ یہ تھی کہ وہ اپنی محنت کی کمائی کازیادہ تر حصہ سال درسال نئے گھر کی تعمیر پر خرچ کردیتے تھے ۔ کیونکہ سیلاب کی تباہ کاریوںکے نتیجہ میں زیادہ تر لوگوںکے گھروںکو نقصان پہنچتاتھا انہی مشکلات کو دور کرنے کے مقصد سے اس وقت کے وزیر اعلیٰ آنجہانی ڈاکٹر جگرناتھ مشرا نے لوگوں کو ان کے شہروں اور دیہاتوں میں روزگار فراہم کرنے کی انتھک کوشش کی تھی تاکہ اس علاقے کے باشندوں کو اپنے علاقہ میں کام میسرہوسکے اوربڑے بڑے شہروںکی طرف ان لوگوں کی ہجرت کوکچھ حدتک روکا جاسکے،رورل ڈیولپمنٹ سنگرام کے چیئرمین محمد سعداللہ نے یہاں منعقد ایک تقریب میں کہاکہ ڈاکٹر مشرا نے اپنے آخری دنوںمیں شمالی بہار کے اس پسماندہ علاقہ کو ایک صنعتی مرکز کے طورپر ڈیولپ کرنے اور لوگوں کو روزگار فراہم کرنے کے مقصد سے، مدھوبنی کے جھنجھار پورعلاقہ کو صنعت وحرفت کاہب بنانے کا فیصلہ کیا تھاان کی مخلصانہ کوشش کا نتیجہ تھاکہ اس علاقے میں پیپر مل سے کاٹن مل تک قائم ہوئی۔ کسی وجہ سے ان کے دورحکومت میںیہ خواب پوری طرح شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکا۔جس کاانہیں اپنی زندگی کے آخری لمحات تک افسوس رہا کہ وہ اپنے اسمبلی حلقہ کو صنعتی مرکز نہیں بنا سکے۔ لیکن جب انسان دوراندیشانہ طورپر خواب دیکھتا ہے تو اس میں وقت ضرور لگتا ہے لیکن وہ پورا ضرور ہوتا ہے۔ یہ بھی ایک اتفاق ہے کہ باپ نے خواب دیکھا اوراس کی بنیاد رکھ دی۔ بہار کے ترقی پسند وزیر اعلیٰ نتیش کمار کے تعاون سے بیٹے نے اب اپنے باپ کے خواب کو تعبیر آشناکرنے کابیڑااٹھالیاہے ۔

