تاثیر 13 اپریل ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
سنگھواڑہ دربھنگہ (محمد مصطفیٰ)سمری تھانہ حلقہ کے بھراٹھی پنچایت کے منیہاس گاؤں میں ٹیلر ماسٹر جہانگیر عالم کا چاقو سے قتل معاملے میں سمری تھانہ میں بستواڑہ کے پانچ نوجوانوں کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے متوفی کے بھائی محمد فرمود عالم نے بتایا کہ 11 اپریل کی رات تقریباً 9:15 بجے بستواڑہ گاؤں باشندہ شعیب انصاری کے بیٹے محمد عادل کا کچھ دیگر نوجوانوں سے آپسی جھگڑا ہو رہا تھا۔ اسی دوران میرا چھوٹا بھائی مرحوم جہانگیر انصاری وہاں پہنچا اور جھگڑا ختم کرانے کی کوشش کرنے لگا۔ اس دوران محمد عادل نے میرے بھائی کے ساتھ گالی گلوج کی، جسے کسی طرح خاموش کرا دیا گیا، لیکن وہ اس بات کو دل میں رکھ کر دشمنی پالنے لگا۔
کچھ دیر بعد عادل اپنے تقریباً 10 ساتھیوں کے ساتھ، جن میں محمد نظام الدین انصاری کے بیٹے محمد فہد، محمد جیلانی کے بیٹے دلشا، محمد داؤد کے بیٹے محمد انس، محمد جہانگیر کے بیٹے محمد فیضان (تمام بستواڑہ گاؤں باشندہ شامل تھے، منظم طریقے سے ہمارے گھر پر حملہ کر دیا۔
تمام ملزمان لاٹھی، ڈنڈا، ہاکی، چاقو اور فرسا جیسے خطرناک ہتھیاروں سے لیس تھے اور واضح طور پر میرے بھائی کو قتل کرنے کے ارادے سے آئے تھے۔ ملزمان نے میرے بھائی جہانگیر کو گھر سے باہر گھسیٹ کر اس پر جان لیوا حملہ کر دیا۔ کلیدی ملزم محمد عادل نے اپنے ہاتھ میں لیے چاقو سے میرے بھائی کے جسم پر کئی وار کیے اور اسے بری طرح زخمی کر دیا۔ اس کے ساتھیوں نے بھی لاٹھی، ڈنڈا اور ہاکی سے بے رحمی سے مارپیٹ کی۔
حملے میں میرا بھائی شدید زخمی ہو کر زمین پر گر پڑا۔ چیخ و پکار سن کر جب میں بیچ بچاؤ کے لیے پہنچا تو مجھے بھی ملزمان نے زخمی کر دیا۔
شور سن کر جب آس پاس کے لوگ موقع پر پہنچے تو تمام ملزمان وہاں سے فرار ہو گئے۔ میرے اہل خانہ نے میرے بھائی کو تشویشناک حالت میں بہتر علاج کے لیے قیدرآباد کے ایک نجی اسپتال میں داخل کرایا، جہاں علاج کے دوران 12 اپریل کی صبح اس کی موت ہو گئی یہ واقعہ مکمل طور پر منصوبہ بند اور مجرمانہ فعل ہے۔ ملزمان نے متحد ہو کر میرے چھوٹے بھائی کو چاقو سے وار کر کے بے دردی سے قتل کر دیا۔ تھانہ انچارج اروند کمار نے بتایا کہ کلیدی ملزم عادل کی عمر کی تصدیق کے بعد اس کی عمر 17 سال 6 ماہ پائی گئی، جس کے باعث اسے قانون کے مطابق نابالغ مانتے ہوئے جُوینائل کورٹ بھیج دیا گیا ہے۔
ادھر منیہاس گاؤں میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے پولیس نے گشت تیز کر دی ہے۔ واقعہ میں ملوث دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لیے جگہ جگہ چھاپے مارے جا رہے ہیں اس دوران قتل میں استعمال ہونے والا خون آلود چاقو ملزم کے گھر سے کچھ دور آم کے باغ میں ایک مچان کے پاس سے برآمد کیا گیا ہے۔ اس چاقو کو عدالت میں پیشی کے ساتھ ساتھ فارنسک لیب جانچ کے لیے بھی بھیج دیا گیا ہے

