جمہوریت پر حملہ، کسانوں کا بحران اور انتظامی ناکامی کے خلاف کانگریس کی تحریک: جیتو پٹواری

تاثیر 3 اپریل ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

بھوپال، 03 اپریل :۔ مدھیہ پردیش کانگریس کمیٹی کے ریاستی صدر جیتو پٹواری نے دتیا اسمبلی معاملے، ریاست کے کسانوں کی بدحال صورتحال اور حکومت کے طریقہ کار پر سخت حملہ کرتے ہوئے کہا کہ ریاست اور ملک میں جمہوریت کی بنیاد اور عوام کا بھروسہ مسلسل کمزور ہوتا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی عمل اور ہندوستان کے الیکشن کمیشن پر عوام کا کم ہوتا اعتماد جمہوریت کے لیے سنگین خطرے کی علامت ہے۔

جیتو پٹواری نے جمعہ کو اپنے بیان میں الزام لگایا کہ مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے ذریعے کانگریس رکن اسمبلی راجیندر بھارتی کو انصاف کے لیے 60 دنوں کا وقت دیے جانے کے باوجود، اسمبلی اسپیکر نریندر سنگھ تومر نے آدھی رات کو اسمبلی سکریٹریٹ کھلوا کر ان کی رکنیت ختم کر دی۔ انہوں نے اسے اقتدار کے دباو میں لیا گیا فیصلہ قرار دیتے ہوئے جمہوری اقدار کی خلاف ورزی قرار دیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایک طرف نروتم مشرا کے خلاف پیڈ نیوز کا معاملہ زیرِ التوا ہے، لیکن اس پر اب تک کوئی کارروائی نہیں ہوئی، جو حکومت کے دہرے معیار کو ظاہر کرتا ہے۔

کسانوں کی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پی سی سی چیف پٹواری نے کہا کہ ریاست میں ’کسان کلیان ورش‘ (کسانوں کے بہبود کا سال) درحقیقت ’کسان شوشن ورش‘ (کسانوں کے استحصال کا سال) بن گیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کھاد کی کمی کی وجہ سے کسانوں کو لمبی قطاروں میں کھڑا ہونا پڑا، جہاں خواتین کے ساتھ بدسلوکی، لاٹھی چارج اور کئی بزرگ کسانوں کی موت تک کے واقعات سامنے آئے، جبکہ حکومت مسلسل کمی سے انکار کرتی رہی۔ ہندوستان کے کنٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل (کیگ) کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کسانوں کے لیے مقررہ 50 فیصد بجٹ خرچ ہی نہیں کیا گیا، جو حکومت کی نیت پر سوال کھڑے کرتا ہے۔