تاثیر 4 اپریل ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
مشرقی چمپارن، 4 اپریل: ضلع کے ترکولیا اور رگھوناتھ پور تھانہ علاقوں میں زہریلی شراب معاملہ نے خوفناک رخ اختیار کر لیا ہے۔ اس واقعہ میں اب تک چھ افراد کی موت ہو چکی ہے، جب کہ ایک درجن سے زائد دیگر بیمار ہیں، جس میں کئی لوگوں کی آنکھوں کی روشنی چلی گئی ہے۔ تمام بیمار مختلف اسپتالوں میں زیر علاج ہیں جن میں سے کچھ کی حالت تشویشناک ہے۔مرنے والوں میں جے سنگھ پور پلواگھاٹ کے چندو پرساد، پرسونا کے پرمود یادو، پرکشن مانجھی، بال گنگا کے سمپت ساہ، ہردیا کے ہری بھگت اور ہردیا کے لال کشور رائے شامل ہیں۔ جبکہ بال گنگا کے ونود ساہ، راہل پاسوان، لوہا ٹھاکر اور لڈو ساہ سمیت کئی لوگوں کی حالت تشویشناک ہے۔ڈاکٹروں نے لڈو ساہ اور ونود ساہ کو مزید علاج کے لیے پی ایم سی ایچ ریفر کر دیا ہے۔ واضح رہے کہ ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ ان سبھی نے مبینہ طور پر بدھ کی شام پرسونا اور بال گنگا میں شراب نوشی کی تھی جس کے بعد رات کو ان کی طبیعت خراب ہونے لگی تھی۔ مسلسل اموات نے بال گنگا، لکشمی پور، گڈیریا پرسونا اور ہردیا میں غم کا ماحول ہے۔ معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس سورن پربھات نے ترکولیا تھانہ انچارج اوماشنکر مانجھی کو معطل کر دیا ہے۔ دریں اثنا کلیدی شراب ڈیلر ناگا رائے کے رشتہ دار چوکیدار بھرت یادو کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔الزام ہے کہ وہ شراب فروش کی مدد کر رہا تھا۔ پولیس نے کلیدی ملزم ناگا رائے سمیت آٹھ شراب اسمگلروں کو گرفتار کر لیا ہے اور سپلائی کرنے والے کی شناخت اور گرفتاری کے لیے چھا پہ ماری کی جارہی ہے۔

