ریاستی درجہ کی بحالی میں تاخیر عوام کے لیے سزا کے مترادف، اسے بی جے پی لیڈر نے بھی تسلیم کر لیا۔عمر عبداللہ

تاثیر 24 اپریل ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

جموں، 24 اپریل:جموں و کشمیر میں ریاستی درجہ کی بحالی کے معاملے پر حکمراں جماعت اور اپوزیشن کے درمیان لفظی جنگ تیز ہو گئی ہے۔ اپوزیشن لیڈر سنیل شرما کے سخت بیانات کے ایک دن بعد وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بی جے پی کو نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا کہ پارٹی نے خود تسلیم کر لیا ہے کہ جموں و کشمیر کو ریاستی درجہ دینے میں تاخیر عوام کو سزا دینے کے مترادف ہے کیونکہ انہوں نے جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے حق میں ووٹ دیا۔

یہ تنازعہ اس وقت شروع ہوا جب جمعہ کے روز سنیل شرما نے عمر عبداللہ حکومت پر “ناکارکردگی، بدعنوانی اور غلط ترجیحات” کے الزامات عائد کیے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت عوامی مسائل کے بجائے “میراتھن، اسکیئنگ اور فائیو اسٹار تقاریب” میں مصروف ہے۔ شرما نے یہ بھی کہا کہ ریاستی درجہ کی بحالی کو کسی ایک لیڈر یا سیاسی خاندان سے مشروط نہیں کیا جا سکتا۔ ہفتہ کے روز عمر عبداللہ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ‘ایکس’ پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ بی جے پی کے بیانات نوشہرہ (راجوری) میں حالیہ بڑے عوامی اجتماع کے بعد گھبراہٹ کا نتیجہ ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ بی جے پی نے اعتراف کر لیا ہے کہ جموں و کشمیر کے عوام کو ان کے ووٹ کی وجہ سے سزا دی جا رہی ہے۔