پُوپری میں ’ایجوکیشن مافیا‘ کا راج! بغیر منظوری چل رہے اسکول، سرپرستوں سے کھلی لوٹ

تاثیر 4 اپریل ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

سیتامڑھی (مظفر عالم)
پُوپری بلاک میں تعلیم اب خدمت نہیں بلکہ کھلا کاروبار بن چکی ہے۔ یہاں تعلیم کے نام پر ایسی اندھا دھند لوٹ جاری ہے جسے روکنے والا کوئی نہیں۔ بغیر منظوری کے نجی اسکولوں کی بھرمار ہے، جہاں قوانین کو نظر انداز کر کے سرپرستوں کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالا جا رہا ہے۔ نگر پریشد جنکپور روڈ پُوپری سے لے کر پورے بلاک تک گلی کوچوں میں ’تعلیم کی دکانیں‘ دھڑلے سے چل رہی ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ تعلیم کے حق کے قانون کی کھلے عام خلاف ورزی ہو رہی ہے، مگر ذمہ دار افسران خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق کئی اسکول ایسے ہیں جن کے پاس صرف آٹھویں جماعت تک کی منظوری ہے، مگر اسی کی آڑ میں نویں سے بارہویں تک کی کلاسیں بھی چلائی جا رہی ہیں۔ کئی ادارے تو مکمل طور پر بغیر منظوری کے ہی سرگرم ہیں۔
ایک منظور شدہ اسکول کے منتظم نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا: “پُوپری میں تعلیم نہیں بلکہ کمائی کا دھندا چل رہا ہے۔”
سرپرستوں کا الزام ہے کہ اسکول انتظامیہ صرف فیس ہی نہیں بلکہ کاپی، کتاب، یونیفارم اور اسٹیشنری بھی اپنے ہی کیمپس سے خریدنے پر مجبور کرتی ہے۔ یعنی ایک ہی جگہ مکمل لوٹ کا نظام قائم ہے۔
 بنیادی سہولتوں کا فقدان، بچوں کی سلامتی خطرے میں، ان اسکولوں میں نہ بنیادی سہولتیں ہیں اور نہ ہی قابل اساتذہ: کھیل کے میدان کا فقدان،
صاف ستھرا ماحول نہیں
تربیت یافتہ اساتذہ کی کمی
بھیڑ بھاڑ والے کمروں میں تعلیم
یہ سب تعلیم کے حق کے قانون 2009 کی سیدھی خلاف ورزی ہے۔
قانون کے مطابق بغیر منظوری اسکول چلانا سنگین جرم ہے، جس پر بھاری جرمانہ اور ایف آئی آر تک درج ہو سکتی ہے۔ لیکن پُپری میں یہ قانون صرف کاغذوں تک محدود نظر آ رہا ہے۔
اب سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ آخر کب تک ’تعلیم مافیا‘ کا یہ راج قائم رہے گا؟ کیا محکمہ تعلیم ان غیر قانونی اسکولوں کے خلاف کارروائی کرے گا یا بچوں کے مستقبل کے نام پر یہ لوٹ جاری رہے گی؟
پُوپری میں تعلیم کے نام پر جاری یہ لوٹ محض ایک خبر نہیں بلکہ ایک سنگین انتباہ ہے۔ اگر بروقت کارروائی نہیں ہوئی تو آنے والی نسل کو اس کی بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔