تاثیر 13 اپریل ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
مظفرپور (نزہت جہاں)گاؤں گاؤں پھیلتا یہ ‘دھیرے اثر کرنے والا زہر’ اب صرف ایک جرم نہیں بلکہ ایک سنگین سماجی بحران بن چکا ہے۔ کوڈین والی کھانسی کی شربت، نشہ آور گولیاں اور انجیکشن کا بڑھتا رجحان نوجوان نسل کے مستقبل کو نگلتا جا رہا ہے۔ جہاں کبھی کتابیں اور قلم نظر آتے تھے، وہاں اب نشے کی بوتلیں اور خالی آنکھیں دکھائی دیتی ہیں۔ نشہ نوجوانوں کی سوچ، صحت اور رویّے کو تیزی سے متاثر کر رہا ہے۔ تعلیم سے دوری، چڑچڑاپن، جرائم کی طرف میلان اور ذہنی کمزوری جیسی علامات عام ہوتی جا رہی ہیں۔ یہ لعنت صرف فرد کو نہیں بلکہ پورے خاندان اور معاشرے کو اندر سے توڑ رہی ہے۔ سب سے بڑا نقصان تعلیم کو ہو رہا ہے۔ نشے کی لت کی وجہ سے کئی طلبہ اسکول اور کالج چھوڑ رہے ہیں، اور جو پڑھ رہے ہیں ان کی توجہ بھٹک رہی ہے۔ امتحانی نتائج میں کمی اور بڑھتی غیر حاضری اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ آنے والا وقت ایک پڑھی لکھی نسل کے بجائے نشے میں ڈوبی نسل کی شناخت بن سکتا ہے۔ بازاروں اور محلوں میں نشے کے ساتھ ساتھ جوئے کا رجحان بھی بڑھ رہا ہے، جو نوجوانوں کو جرائم کی طرف دھکیل رہا ہے۔ جلد پیسہ کمانے کی خواہش اور نشے کی ضرورت انہیں غلط راستوں پر لے جا رہی ہے، جس سے چوری، تشدد اور سماجی بدامنی کے خدشات بڑھتے جا رہے ہیں۔ نشے کی وجہ سے گھروں میں جھگڑے، مالی مشکلات اور رشتوں میں دراڑیں بڑھ رہی ہیں۔ والدین اپنے بچوں کو بچانے میں خود کو بے بس محسوس کر رہے ہیں، اور کئی خاندان قرض اور بدنامی کے بوجھ تلے دب رہے ہیں۔ ماہرین اور سماجی کارکنوں کا ماننا ہے کہ اس بڑھتے ہوئے بحران سے نکلنے کا سب سے مضبوط راستہ تعلیم اور بیداری ہے۔ آگاہی مہم، اسکولوں میں کونسلنگ، کھیلوں اور روزگار کے مواقع، اور سخت انتظامی کارروائی—یہ سب مل کر ہی اس مسئلے پر قابو پا سکتے ہیں۔ اگر وقت رہتے تعلیم اور بیداری کو ترجیح نہ دی گئی، تو آنے والا کل اس علاقے کے لیے نہایت خوفناک ثابت ہو سکتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا ہم اپنی نوجوان نسل کو نشے میں ڈوبنے دیں گے؟
یا تعلیم اور بیداری کے ذریعے ایک نئی شروعات کریں گے؟

