تاثیر 12 اپریل ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
کولکاتا، 11/ اپریل (تاثیر بیورو) ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث بھارت کی فاؤنڈری اور کاسٹنگ صنعت شدید دباؤ کا شکار ہو گئی ہے۔ صنعت سے وابستہ تنظیموں — فاؤنڈری اینڈ کاسٹنگس ڈیولپمنٹ ایسوسی ایشن، انسٹی ٹیوٹ آف انڈین فاؤنڈری مین اور انڈین فاؤنڈری ایسوسی ایشن کے مشترکہ بیان کے مطابق گزشتہ تین ماہ میں خام لوہے کی قیمتوں میں 13 فیصد سے زائد اضافہ درج کیا گیا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق اسٹیل گریڈ خام لوہے کی قیمت جنوری 2026 میں 36,500 روپے فی ٹن سے بڑھ کر 41,500 روپے ہو گئی، جبکہ فاؤنڈری گریڈ خام لوہا 40,000 سے بڑھ کر 45,000 روپے فی ٹن تک پہنچ گیا۔ اس کے ساتھ ہی ہارڈ کوک، ریزن اور کیٹالسٹ کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
لاجسٹکس اخراجات میں بھی غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا، جہاں امریکہ، یورپ اور مشرقِ وسطیٰ کے لیے فریٹ ریٹس 50 سے 60 فیصد تک بڑھ گئے ہیں، جبکہ مجموعی لاجسٹک لاگت میں 40 سے 100 فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔ بحیرۂ احمر کی کشیدگی کے باعث جہازوں کا راستہ تبدیل کرکے کیپ آف گڈ ہوپ کے ذریعے ترسیل بھی اخراجات میں اضافے کی بڑی وجہ بنی ہے۔
ایکسپورٹ طلب میں معمولی کمی دیکھی گئی ہے، خاص طور پر آٹو موبائل اور تعمیراتی شعبے سے وابستہ کاسٹنگ میں، جبکہ آئل و گیس اور پمپ و والو سیکٹر نسبتاً مستحکم رہے۔ چھوٹے اور درمیانے درجے کے فاؤنڈری یونٹس (ایم ایس ایم ای) کو منافع میں کمی، ادائیگی میں تاخیر اور ورکنگ کیپیٹل کے دباؤ جیسے مسائل کا سامنا ہے۔
ایف سی ڈی اے کے جوائنٹ چیئرمین وجے شنکر بیریوال کے مطابق ادائیگی کے دورانیے میں اضافہ ہو رہا ہے، جس سے ایم ایس ایم ای یونٹس پر دباؤ مزید بڑھ گیا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ بھارت کی مضبوط پیداواری صلاحیت اور متنوع سپلائی نظام اس بحران میں کچھ حد تک استحکام فراہم کر رہے ہیں۔ صنعتی ماہرین کے مطابق موجودہ چیلنجز کے باوجود بھارت عالمی سطح پر ایک قابلِ اعتماد متبادل سپلائر کے طور پر ابھر رہا ہے، جو مستقبل میں اس شعبے کے لیے مثبت امکانات کی نشاندہی کرتا ہے۔

