اڑیسہ کی تہذیبی شناخت ہندوستان کی کثرت میں وحدت کی بہترین مثال : پروفیسر اجے تنیجا

تاثیر 1 اپریل ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

لینگویج یونیورسٹی میں اریسہ یوم تاسیس کے موقع پر ثقافتی پروگرام کا انعقاد

لکھنؤ، یکم اپریل 2026: خواجہ معین الدین چشتی لینگویج یونیورسٹی کے اٹل ہال میں آج یونیورسٹی کی چانسلر اور اتر پردیش کی گورنر آنندی بین پٹیل کی ہدایات کے مطابق اڑیسہ یومِ تاسیس کے موقع پر ایک شاندار اور باوقار تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ اس پروگرام میں یونیورسٹی کے اساتذہ، طلبہ، افسران اور مختلف شعبہ جات کے ذمہ داران نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ پورا ماحول قومی یکجہتی، ثقافتی ہم آہنگی اور ایک بھارت، شریشٹھ بھارت کے جذبے سے سرشار نظر آیا۔اڑیسہ یومِ تاسیس کی مناسبت سے یونیورسٹی کی کلچرل کمیٹی کی نگرانی میں گزشتہ تین روز سے مختلف سطحوں پر ثقافتی سرگرمیوں کا سلسلہ جاری تھا۔ ان سرگرمیوں میں رنگولی مقابلہ، تقریری مسابقہ، اڑیسہ کی روایتی موسیقی و رقص کی پیشکش، ثقافتی مظاہرہ اور معلوماتی پروگرام شامل تھےجن کے ذریعے طلبہ نے اڑیسہ کی تہذیبی رنگا رنگی، لوک روایت، فنون لطیفہ اور تاریخی ورثے کو نہایت خوبصورت انداز میں پیش کیا۔ ان پروگراموں نے نہ صرف طلبہ کی تخلیقی صلاحیتوں کو اجاگر کیا بلکہ انہیں ہندوستان کی علاقائی ثقافتوں سے قریب تر ہونے کا موقع بھی فراہم کیا۔آج منعقدہ مرکزی تقریب کی صدارت یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر اجے تنیجا نے کی۔ اپنے صدارتی خطاب میں انھوں نے طلبہ کی کاوشوں، محنت اور بھرپور شرکت کو بے حد سراہتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کی تقریبات نوجوان نسل میں قومی شعور، تہذیبی آگہی اور ثقافتی احترام کے جذبات کو فروغ دیتی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ مختلف ریاستوں کے یوم تاسیس منانے کا مقصد صرف ایک رسمی تقریب منعقد کرنا نہیںبلکہ ملک کی گوناگوں تہذیبی روایتوں کو سمجھنا، ان سے سیکھنا اور قومی یکجہتی کے رشتے کو مزید مضبوط بنانا ہے۔پروفیسر اجے تنیجا نے اپنے خطاب میں اڑیسہ کی عظیم تہذیب، قدیم تاریخ، لوک روایات اور جغرافیائی اہمیت پر بھی تفصیل سے روشنی ڈالی۔ انھوں نے کہا کہ اڑیسہ اپنی شاندار ثقافتی روایت، کلاسیکی رقص اڈیسی، مندراتی فن تعمیر، جگن ناتھ پوری کی مذہبی و روحانی عظمت، قبائلی ثقافت اور سمندری جغرافیے کے اعتبار سے ہندوستان کی ایک نہایت اہم ریاست ہے۔ انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ اڑیسہ کی تہذیبی شناخت ہندوستان کی کثرت میں وحدت کی بہترین مثال پیش کرتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ طلبہ کو چاہیے کہ وہ اس طرح کے پروگراموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں تاکہ انہیں ملک کی مختلف ریاستوں کی زبان، ادب، تہذیب، تاریخ اور سماجی ساخت سے آگاہی حاصل ہو۔ ان کے مطابق یہی سرگرمیاں مستقبل میں ایک باشعور، وسیع النظر اور ذمہ دار شہری کی تشکیل میں معاون ثابت ہوتی ہیں۔
اس پروگرام میں مہمانان خصوصی کے طور ڈاکٹر ستیہ  نارائن سبت، پروفیسر سنیتا مشرا، ڈاکٹر مونیکا تنیجا اور پروفیسر سکانت چودھری نے شرکت کی ۔اس پروگرام میں مہمان خصوصی پروفیسر سکانت چودھری نے اڑیسہ کی عظیم تہذیبی و ثقافتی وراثت کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اڑیسہ صرف ایک ریاست نہیں بلکہ ہندوستان کی قدیم تہذیبی روح کا ایک روشن استعارہ ہےجہاں تاریخ، روحانیت، فن تعمیر، لوک روایت اور کلاسیکی موسیقی ایک ساتھ سانس لیتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اڑیسہ کی ثقافت میں سادگی، روحانیت، جمالیاتی حس اور اجتماعی ہم آہنگی نمایاں طور پر نظر آتی ہے، جو نئی نسل کے لیے مشعل راہ ہے۔پروفیسر سکانت چودھری نے مزید کہا کہ جگن ناتھ پوری کی روحانی عظمت، کونارک کے سورج مندر کی فنکارانہ شان، اڈیسی رقص کی کلاسیکی نزاکت اور قبائلی روایات کی رنگا رنگی اڑیسہ کی شناخت کو منفرد بناتی ہے۔ ان کے مطابق ایسے پروگرام طلبہ کو ہندوستان کی مختلف تہذیبی جہتوں سے روشناس کرانے کے ساتھ ساتھ قومی یکجہتی کے شعور کو بھی مضبوط کرتے ہیں۔اس پروگرام کی کوارڈینیٹر پروفیسر چندنا ڈے اور ڈاکٹر نلنی مشرا تھی۔اس پروگرام کی نظامت اور اظہار تشکر ڈاکٹر نلنی مشرا نے کیا۔ اس موقع اساتذہ کے علاوہ  رجسٹرار ڈاکٹر مہیش کمار، کنٹرولر امتحانات وکاس کمار اور طلبہ کثیر تعدا د میں شریک ہوئے۔