ایک بار پھر بہترین قیادت کی ضرورت

تاثیر 1 اپریل ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

بہار کی سیاست کی تاریخ میں جلد ہی ایک نئے باب کا اضافہ ہونے والا ہے۔وزیر اعلیٰ نتیش کمار ایم ایل سی کے عہدے سے استعفیٰ دے چکے ہیں۔ اب وہ راجیہ سبھا کے رکن کی حیثیت سے حلف اٹھانے والے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ان کے وزیراعلیٰ کے عہدے سے دستبردار ہونے کا امکان بھی واضح ہو چکا ہے۔ 14 اپریل کے بعد نئی حکومت کے قیام کی خبریں گردش میں ہیں۔اس کے علاوہ نئے وزیراعلیٰ کے نام پر سسپنس  بھی برقرار ہے۔ جے ڈی یو اور بی جے پی کے درمیان جاری اتحادی گفت و شنید میں کئی نام سامنے آ رہے ہیں۔ سمراٹ چودھری، نیشانت کمار، نتیانند رائے اور رام کرپال یادو جیسے چہرے زیر بحث ہیں۔ بعض تجزیہ کار بی جے پی کے سی ایم اور جے ڈی یو کے ڈپٹی سی ایم کے نئے فارمولے کی بھی بات کر رہے ہیں۔ یہ سیاسی ہلچل بہار کے عوام کےلئے اہم ہے، مگر اس سے زیادہ اہم یہ سوال ہے کہ آنے والا قائد بہار کی مشترکہ ثقافت اور و ورثے کی روح کو کس حد تک محفوظ رکھ پائے گا۔
بہار ہمیشہ سے ساجھی سنسکرتی اور ساجھی وراثت کی سرزمین رہا ہے۔ یہ وہ خطہ ہے جہاں بدھ مت، جین مت، ہندو دھرم اور اسلام نے ایک دوسرے کے ساتھ مل جل کر رہنے کا نمونہ پیش کیا ہے۔ بہار بھگوان مہاویر کی جنم بھومی، گوتم بدھ کی تعلیمات کی جائے پیدائش اور صوفیائے کرام کی خانقاہوں کا مرکز رہا ہے۔ یہاں کی مٹی میں گنگا، سون اور گنڈک کے پانیوں کی طرح مختلف مذاہب اور ثقافتیں ایک دوسرے میں گھل مل گئی ہیں۔ بہار کی عوامی زندگی میں چھٹھ پوجا، عید الفطر، دیوالی اور محرم سب ایک ہی تار پر بجتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بہار نے کبھی بھی نفرت کی سیاست کو اپنی سرحد میں داخل نہیں ہونے دیا۔ یہاںکے عوام نے ہمیشہ اتحاد، بھائی چارے اور ترقی کو ترجیح دی۔ نتیش کمار نے اپنے طویل دورِ حکومت میں اسی روح کو زندہ رکھا۔ انہوں نے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو ترقی کا ستون بنایا۔ چاہے تعلیم، صحت،سڑکوں کی تعمیر ہو یا انفرا سٹرکچر کا فروغ، ان کا نقطۂ نظر ہمیشہ ’’سب کا ساتھ، سب کا وکاس رہا‘‘۔ ان کی قیادت میں بہار نے نفرت کی آگ کو کبھی نہیں بھڑکنے دیا۔
اب جب نتیش کمار کا دور ختم ہو رہا ہے تو نئے وزیراعلیٰ پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس ورثے کو مزید مضبوط کریں۔ خواہ نیا وزیراعلیٰ بی جے پی سے ہو یا جے ڈی یو سے، انہیں یہ یقینی بنانا ہوگا کہ بہار نفرت کی سیاست سے بالکل پاک رہے ۔ سمراٹ چودھری جیسے تجربہ کار لیڈر، نیشانت کمار جیسے نوجوان چہرے یا نتیانند رائے جیسے مرکزی تجربہ کار، سب کے لئے ایک ہی اصول ہونا چاہئے: بہار کو مشترکہ ورثے کی سرزمین بنائے رکھنا۔ یہاں کی سیاست کو ذات پات، مذہب یا علاقائیت کی بنیاد پر تقسیم نہیں ہونے دینا چاہئے۔ اگر نیا قائد بھی نتیش کمار کی طرح تمام طبقات کو ساتھ لے کر چلے گا تو بہار نہ صرف سیاسی طور پر مستحکم رہے گا بلکہ سماجی ہم آہنگی کا بہترین نمونہ بھی پیش کرے گا۔
بہار کی یہ ساجھی شناخت پورے بھارت کے سماجی اور مذہبی تانے بانے کی اصل تصویر بھی ہے۔ بھارت ایک کثیر المذاہب اور کثیر الثقافتی ملک ہے۔ یہاں کی طاقت ہی اس کی تنوع میں ہے۔ اگر بہار جیسا اہم صوبہ نفرت اور تقسیم کی سیاست سے محفوظ رہا تو پورا ملک اس سے سبق سیکھ سکتا ہے۔ نئے وزیراعلیٰ کو یہ بات سمجھنی ہوگی کہ ترقی صرف بڑی بڑی عمارتوں اوربہترین سڑکوںسے نہیں بلکہ دلوں کے ملنے سے ہوتی ہے۔ انہیں اقلیتوں، پسماندہ طبقات، خواتین اور نوجوانوں کے اعتماد کو برقرار رکھنا ہوگا۔ جے ڈی یو اور بی جے پی دونوں کو یہ احساس کرنا ہوگا کہ اتحاد اور اشتراک کی کامیابی صرف کرسیوں کی تعداد میں نہیں بلکہ عوام کے بھائی چارے میں ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ 14 اپریل کے بعد جو بھی فارمولا سامنے آئے گا، اس میں مستقل مزاجی اور اتحاد کا عنصر غالب ہونا چاہئے۔ بہارکے عوام نے ہمیشہ ترقی پسند قیادت کو پسند کیا ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ ریاست کا نیا وزیراعلیٰ بھی نتیش کمار کی طرح امن اور ہم آہنگی کا پرچم بلند کرنے والا ہو۔ تاریخ گواہ ہے کہ جو قیادتیں تقسیم کی سیاست پر چلیں، وہ کبھی کامیاب نہیں ہوئیں۔ بہار جیسا خطہ، جہاں اشوک کی تعلیمات، چانکیہ کی حکمت اور کبیر کی وحدت کے پیغامات زندہ ہیں، وہاں نفرت کی سیاست کی کوئی جگہ نہیں ہے۔
بلا شبہ نتیش کمار کے بعد بہار کی سیاست کی تاریخ ایک نئے باب کی طرف بڑھ رہی ہے۔ یہ تبدیلی اگر مثبت اور ہم آہنگ رہی تو صوبہ نہ صرف ترقی کرے گا بلکہ پورے ملک کے لئے ایک مثال بھی بنے گا۔ نئے وزیراعلیٰ سے صرف ایک ہی توقع ہے: بہار کو ساجھی ثقافت اور ساجھی ورثے کی سرزمین بنائے رکھیں۔ اسے نفرت کے سائے سے بھی دور رکھیں۔ یہی بھارت کے حقیقی سماجی و مذہبی تانے بانے کی اصل تصویر ہے۔ بہارکے عوام اسی امید کے ساتھ نئے قائد کا انتظار کر ر ہے ہیں، جو ان کے مشترکہ خوابوں کو شرمندۂ تعبیر کرے۔
**************