تاثیر 2 اپریل ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
بدھ 1 اپریل 2026 کو مغربی بنگال کے مالدہ ضلع میں ایک ایسا افسوسناک واقعہ پیش آیا ، جس نے پورے ملک کی توجہ اپنی طرف مبذول کر لی ہے۔ انتخابی کمیشن کی اسپیشل انٹینسیو ریویژن (ایس آئی آر) کے عمل کے دوران تعینات سات عدالتی افسران، جن میں تین خواتین بھی شامل تھیں، کو تقریباً نو گھنٹے تک گھیر لیا گیا اور بطور یرغمال رکھا گیا۔ یہ افسران ووٹر لسٹوں کی تصدیق اور ناموں کی حذف شدہ فہرستوں کی سماعت کر رہے تھے۔ مظاہرین نے انہیں روک لیا، ان کی گاڑیوں پر پتھراؤ کیا اور انہیں بغیر خوراک و پانی کے گھنٹوں تک بے بس چھوڑ دیا۔
چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت کی سربراہی میں سپریم کورٹ نے جمعرات 2 اپریل کو از خود نوٹس لیتے ہوئے اس واقعے پر سخت ردعمل ظاہر کیا۔ عدالت نے اسے’’سوچی سمجھی سازش‘‘ اور ’’عدالت کے اختیار پر کھلا چیلنج‘‘ قرار دیا۔ چیف جسٹس نے مغربی بنگال حکومت کی انتظامیہ پر شدید تنقید کی اور پوچھا کہ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ اور پولیس سپرنٹنڈنٹ موقع پر کیوں نہیں پہنچے؟ انہوں نے کہا کہ یہ قانون و نظم کی مکمل ناکامی ہے اور ریاست میں اعتماد کا شدید بحران پیدا ہو چکا ہے۔ عدالت نے ریاست کے چیف سیکریٹری، ہوم سیکریٹری اور ڈی جی پی کو شو کاز نوٹس جاری کر دیا اور ان کی ورچوئل موجودگی کو اگلی سماعت میں لازمی قرار دیا۔اس کے علاوہ، سپریم کورٹ نے انتخابی کمیشن کو ہدایت کی کہ وہ عدالتی افسران کی حفاظت کے لئے مرکزی فورسز کی تعیناتی یقینی بنائے۔ عدالت نے واضح کیا کہ ایسے واقعات عدالتی عمل میں رکاوٹ ڈالتے ہیں اور انہیں کسی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ چیف جسٹس نے یہ بھی کہا کہ مظاہرین کون ہیں، یہ جاننا ضروری ہے، لیکن اس سے زیادہ اہم یہ ہے کہ ریاست نے بروقت کارروائی کیوں نہیں کی۔
مالدہ کا یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے، جب مغربی بنگال میں اسمبلی انتخابات کے پیش نظر ووٹر لسٹوں کی خصوصی نظرثانی (ایس آئی آر) جاری ہے۔ اس عمل میں بڑی تعداد میں ناموں کی حذفگی پر اعتراضات سامنے آئے ہیں، جن کی سماعت عدالتی افسران کر رہے تھے۔ مظاہرین کا دعویٰ تھا کہ ان کے نام غیر منصفانہ طور پر حذف کیے گئے، جبکہ عدالت اس بات پر زور دے رہی ہے کہ یہ عمل شفاف اور منصفانہ طریقے سے مکمل ہونا چاہیے۔چنانچہ ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ واقعہ محض ایک مقامی بوال نہیں بلکہ جمہوریت کے بنیادی ستونوں پر حملہ ہے۔ عدلیہ، جو آئین کا محافظ ہے، جب اپنے فرائض انجام دیتے ہوئے خطرات کا شکار ہوتی ہے تو پورا نظام متاثر ہوتا ہے۔ بھارت کی سب سے بڑی خوبصورتی اس کی جمہوری روایت، کثیر المذاہب اور کثیر الثقافتی ڈھانچے میں ہے۔ یہ جمہوریت صرف انتخابات تک محدود نہیں بلکہ آزاد اور غیر جانبدار عدلیہ، قانون کی بالادستی اور شہری حقوق کے احترام پر قائم ہے۔ جب کسی بھی سیاسی جماعت یا گروہ کے حامی عدالتی عمل کو روکنے کی کوشش کرتے ہیں تو وہ نہ صرف آئین کی خلاف ورزی کرتے ہیں بلکہ پورے ملک کی جمہوری بنیادوں کو ہلا دیتے ہیں۔
مغربی بنگال حکومت کو اس معاملے میں اپنی ذمہ داری نبھانی ہوگی۔ چیف جسٹس نے واضح کیا ہے کہ ریاست اور انتخابی کمیشن کے درمیان اعتماد کا بحران ہے۔ اگر انتظامیہ بروقت مداخلت کرتی تو یہ صورتحال پیدا نہ ہوتی۔ دوسری طرف، مظاہرین کو بھی یہ سمجھنا چاہیے کہ اپنے حقوق کی آواز اٹھانے کا درست طریقہ احتجاج ہے، نہ کہ تشدد یا یرغمال بنانا۔ سیاسی جماعتوں کو چاہیے کہ وہ اپنے کارکنوں کو قانون کی حدود میں رہنے کی تلقین کریں۔سپریم کورٹ کا یہ سخت رویہ خوش آئند ہے۔ عدالت نے نہ صرف شوکاز نوٹس جاری کیے بلکہ مرکزی فورسز کی تعیناتی اور ممکنہ طور پر سی بی آئی یا این آئی اے کی تحقیقات کا راستہ بھی کھولا ہے۔ یہ اقدامات عدلیہ کی آزادی اور وقار کو برقرار رکھنے کےلئےضروری ہیں۔
ظاہر ہے،جمہوریت کو زندہ رکھنے کے لئے سب کو سنجیدگی سے سوچنے اور عمل کرنے کی ضرورت ہے۔ سیاسی قیادت، انتظامیہ، انتخابی کمیشن اور شہریوں سب کی ذمہ داری ہے کہ وہ عدالتی عمل کو احترام دیں۔ مغربی بنگال جیسے حساس ریاستوں میں قانون و نظم کی بحالی کے لئے فوری اقدامات کیے جائیں۔ ایس آئی آر کا عمل شفاف طریقے سے مکمل ہو، تاکہ کوئی بھی ووٹر اپنے حق سے محروم نہ ہو اور نہ ہی جعلی ووٹروں کو فائدہ پہنچے۔بلا شبہ بھارت کی طاقت اس کی اتحاد میں ہے۔ جب عدلیہ پر حملہ ہوتا ہے تو پورا ملک کمزور ہوتا ہے۔ مالدہ کا واقعہ ایک وارننگ ہے۔ اگر ہم سب مل کر جمہوریت کے وقار کی حفاظت نہیں کریں گے تو آئندہ نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔ وقت آ گیا ہے کہ سیاسی اختلافات کے باوجود قانون کی حکمرانی کو سب سے اوپر رکھا جائے۔ یہی بھارت کی اصل خوبصورتی اور طاقت ہے۔
***************

