ریلائنس ریٹیل ایک’ہیکٹاکورن ‘بن گیا
نیشنل اسٹاک ایکسچینج 27 ویں جبکہ، ٹاٹا ای وی موبلٹی 93 ویں نمبر پر ہی
نئی دہلی، 9 اپریل، 2026 ۔ریلائنس ریٹیل دنیا کی سب سے قیمتی نجی اسٹارٹ اپ کمپنیوں کی عالمی فہرست میں ساتویں نمبر پر پہنچ گئی ہے۔ سٹینفورڈ گریجویٹ سکول آف بزنس کی تحقیق کے مطابق، 100 ارب ڈالر سے زیادہ کی قیمت کے ساتھ، کمپنی نے عالمی سطح پر ایک اہم سنگ میل حاصل کیا ہے۔ تین ہندوستانی کمپنیاں ٹاپ 100 سب سے قیمتی اسٹارٹ اپ کمپنیوں کی فہرست میں شامل ہیں۔ ریلائنس ریٹیل نے ہندوستان کی مضبوط موجودگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس فہرست میں سب سے زیادہ درجہ بندی حاصل کی ہے۔
رپورٹ کے مطابق، ریلائنس ریٹیل کی پوسٹ منی ویلیویشن 100 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی ہے، جس سے یہ عالمی سطح پر ’ہیکٹا کارنز‘ کے طور پر پہچانی جانے والی سات کمپنیوں میں سے ایک ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایسے اسٹارٹ اپ جن کی قیمت 100 ار ب ڈالرسے زیادہ ہے وہ ہیکٹاکورن کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ ریلائنس ریٹیل ٹاپ سات کمپنیوں میں واحد خوردہ کمپنی ہے۔
کمپنی نے معروف عالمی سرمایہ کاروں جیسے قطر انویسٹمنٹ اتھارٹی، ابوظہبی انویسٹمنٹ اتھارٹی، کے کے آر، سلور لیک، جی آئی سی، ٹی پی جی اور مبادلہ سے سرمایہ کاری حاصل کی ہے۔ درجہ بندی اسٹینفورڈ گریجویٹ اسکول آف بزنس میں وینچر کیپیٹل انیشی ایٹو کی تحقیق پر مبنی ہے، جنوری 2026 تک کے ڈیٹا کی بنیاد پر۔
فہرست میں سب سے اوپر تین پوزیشنیں مصنوعی ذہانت کی کمپنی اوپن اے آئی، ایلن مسک کی سپیکس ایکس اور انتھروپککے پاس ہیں، جو عالمی سرمایہ کاری کے رجحانات میں ٹیک اور AI کمپنیوں کے بڑھتے ہوئے غلبے کی عکاسی کرتی ہیں۔
رپورٹ میں کل تین ہندوستانی کمپنیاں شامل ہیں۔ نیشنل اسٹاک ایکسچینج (این ایس ای انڈیا) 24 ارب ڈالر کی قیمت کے ساتھ 27 ویں نمبر پر ہے، جب کہ ٹاٹا ای وی موبیلٹی 9 ارب ڈالر کی قیمت کے ساتھ 93 ویں نمبر پر ہے۔فہرست میں امریکہ 65 کمپنیوں کے ساتھ سرفہرست ہے، اس کے بعد چین 21 کمپنیوں کے ساتھ ہے۔ ہندوستان اور برطانیہ نے تین کمپنیوں کے ساتھ اس فہرست میں جگہ بنائی ہے۔
رپورٹ کے مطابق، سب سے اوپر کی تین کمپنیاں، اوپن اے آئی، سپیکس ایکس اور انتھروپک، مل کر فہرست کی کل قیمت کا تقریباً ایک تہائی حصہ رکھتی ہیں، جو عالمی سرمایہ کاری میں AI سیکٹر کی مضبوط موجودگی کی عکاسی کرتی ہیں۔ ریلائنس ریٹیل کی درجہ بندی عالمی خوردہ بازار میں ہندوستان کی بڑھتی ہوئی موجودگی کو بھی واضح کرتی ہے۔

