تاثیر 23 اپریل ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
آج 24 اپریل ، بہار کی سیاست کا ایک خاص دن ہے ۔آج ریاست کی نئی حکومت کے لئے اسمبلی میں اعتماد کا ووٹ حاصل کرنا محض ایک آئینی تقاضا نہیں بلکہ سیاسی ساکھ کا امتحان بھی ہے۔ وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری کو آج ایوان میں اپنی اکثریت ثابت کرنی ہے۔ بظاہر اعداد و شمار ان کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔ تاہم، اس عمل کی اصل اہمیت اس کے سیاسی اور انتظامی مضمرات میں پوشیدہ ہے، جو آنے والے دنوں میں ریاست کی سمت متعین کریں گے۔
اعداد و شمار کے لحاظ سے دیکھا جائے تو این ڈی اے حکومت کے لئے فلور ٹیسٹ کوئی بڑی رکاوٹ معلوم نہیں ہوتا۔ اسمبلی کی موجودہ طاقت اور اتحادی جماعتوں کی حمایت کے پیش نظر حکومت باآسانی اکثریت حاصل کر سکتی ہے۔ نائب وزیر اعلیٰ وجے چودھری نے بھی پورے اعتماد کے ساتھ یہ دعویٰ کیا ہے کہ حکومت کو کسی قسم کی مشکل درپیش نہیں ہوگی۔ اس کے برعکس اپوزیشن، خصوصاً تیجسوی یادو کی قیادت میں، اس موقع پر حکومت کو گھیرنے کی کوشش کرے گی، اگرچہ گزشتہ تجربات ان کے لئے زیادہ حوصلہ افزا نہیں رہے ہیں۔
لیکن اس ساری سیاسی سرگرمی کے درمیان اصل سوال یہ ہے کہ کیا فلور ٹیسٹ میں اعداد و شمار کی بنیار پر اکثریت کا حصول ہی حکومت کی کامیابی کا پیمانہ ہوگا؟ حقیقت یہ ہے کہ فلور ٹیسٹ محض پہلا قدم ہے۔ اصل چیلنج اس کے بعد شروع ہوتا ہے، جب حکومت کو اپنے وعدوں پر عمل درآمد اور انتظامی صلاحیت کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ اس حوالے سے سب سے بڑا مسئلہ کابینہ کی توسیع کا ہے، جو ابھی تک التوا کا شکار ہے۔ اطلاعات کے مطابق، اس معاملے میں سب سے زیادہ پیچیدگیاں خود بی جے پی کے اندر پائی جا رہی ہیں، جہاں سینئر رہنماؤں کے کردار اور عہدوں پر اتفاق رائے نہیں ہو سکا ہے۔
یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ اتحاد کی سیاست میں داخلی توازن برقرار رکھنا کس قدر مشکل ہوتا ہے۔ اگرچہ اتحادی جماعتیں بظاہر متحد نظر آتی ہیں، لیکن اقتدار کی تقسیم ہمیشہ ایک حساس معاملہ ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کابینہ کی تشکیل میں تاخیر نہ صرف حکومت کی کارکردگی کو متاثر کر سکتی ہے بلکہ عوام میں یہ تاثر بھی پیدا کر سکتی ہے کہ سیاسی مفادات، عوامی مسائل پر حاوی ہیں۔دوسری جانب جے ڈی یو کی جانب سے یہ وضاحت پیش کی گئی ہے کہ نئی حکومت دراصل نتیش کمار کے وژن کا تسلسل ہے۔ وجے چودھری کا یہ بیان کہ حکومت نتیش کمار کی پالیسیوں پر ہی عمل کرے گی، ایک طرح سے تسلسل اور استحکام کا پیغام دیتا ہے۔ تاہم، یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ قیادت کی تبدیلی کے ساتھ توقعات اور چیلنجز بھی بدل جاتے ہیں۔ سمراٹ چودھری کو اب یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ نہ صرف ایک سیاسی سمجھوتے کے نتیجے میں وزیر اعلیٰ بنے ہیں بلکہ ایک مؤثر منتظم کے طور پر بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا سکتے ہیں۔
حالانکہ اپوزیشن کی ذمہ داری بھی کم نہیں ہے۔ ایک مضبوط جمہوریت کے لئے ضروری ہے کہ اپوزیشن تعمیری کردار ادا کرے اور محض تنقید کے بجائے متبادل پالیسیوں کی پیشکش کرے۔ تیجسوی یادو کی سرگرمی اور حکومت پر ان کے حملے سیاسی طور پر اہم ضرور ہیں، لیکن عوامی مفاد کے لئے ضروری ہے کہ یہ تنقید مثبت سمت میں ہو۔
کل کا دن بلاشبہ سیاسی اعتبار سے اہم ہے، لیکن اس سے بھی زیادہ اہم وہ دن ہوں گے ،جو اس کے بعد آئیں گے۔ عوام کی اصل توقعات روزگار، ترقی، تعلیم اور بنیادی سہولیات سے جڑی ہوئی ہیں۔ اگر نئی حکومت ان شعبوں میں ٹھوس پیش رفت دکھانے میں کامیاب ہوتی ہے، تو فلور ٹیسٹ کی کامیابی حقیقی معنوں میں بامعنی ثابت ہوگی۔ آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ بہار کی سیاست ایک نئے دوراہے پر کھڑی ہے۔ اعتماد کا ووٹ اگرچہ حکومت کے استحکام کی ضمانت دے سکتا ہے، لیکن عوام کا اعتماد حاصل کرنا ایک مسلسل عمل ہے، جس کے لئے سنجیدہ حکمرانی، شفافیت اور جوابدہی ناگزیر ہیں۔
********

