اندور میں این ایس یو آئی کا زوردار احتجاج، ڈی اے وی وی کیمپس میں ہنگامہ، 6 گرفتار، بیریکیڈز کودتے نظر آئے طلبہ

تاثیر 7 اپریل ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

اندور، 07 اپریل :مدھیہ پردیش کے اندور میں این ایس یو آئی کے کارکنوں نے منگل کو دیوی اہلیہ وشو ودیالیہ (ڈی اے وی وی) کے آر این ٹی احاطے میں زوردار احتجاج کیا، جو دیکھتے ہی دیکھتے ہنگامے میں تبدیل ہو گیا۔ پولیس اور طلبہ کے درمیان جم کر دھکا مکی ہوئی، جس کے بعد پولیس نے ضلع صدر رجت پٹیل سمیت 6 عہدیداروں کو گرفتار کر لیا۔

این ایس یو آئی کارکنوں کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی میں طویل عرصے سے رزلٹ میں تاخیر، کاپیوں کی جانچ میں بے ضابطگی اور انتظامی بے اعتدالیاں برقرار ہیں۔ انہی مسائل کو لے کر سینکڑوں طلبہ دوپہر تقریباً 1.40 بجے کیمپس پہنچے اور احتجاج شروع کیا، جو تقریباً 40 منٹ تک جاری رہا۔

احتجاج کے دوران ایک الگ ہی نظارہ دیکھنے کو ملا۔ پولیس کے مطابق، کچھ طلبہ رہنما احتجاج کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا کے لیے ریل بنانے میں بھی مصروف نظر آئے۔ کئی کارکن بار بار بیریکیڈز لانگھنے کی کوشش کرتے رہے، جس سے صورتحال مزید کشیدہ ہوگئی۔ پولیس کو مائیک سے اپیل کرنی پڑی- ’ریل کے چکر میں ایسا نہ کریں، شائستگی سے میمورنڈم دیں۔‘

جب مظاہرین زبردستی کیمپس میں داخل ہونے لگے تو پولیس نے انہیں روک دیا۔ اس دوران دونوں فریقین میں تیکھی نوک جھونک اور ہاتھا پائی ہوئی، جس میں کچھ طلبہ رہنماوں کے کپڑے تک پھٹ گئے۔ حالات بگڑتے دیکھ کر پولیس نے اہم عہدیداروں کو حراست میں لے لیا۔