نیتن یاہو کا دور ختم ہونے کا آغاز

تاثیر 28 اپریل ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

اسرائیلی سیاست میں ایک اہم موڑ آیاہے۔ سابق وزیراعظم نَفْتالی بینٹ اور اپوزیشن لیڈر یائیر لاپڈ نے اپنی پارٹیوں کے انضمام کا اعلان کیا ہے۔ دونوں نے مل کر نئی پارٹی’’یَچَد‘‘ یعنی ’ساتھ ساتھ‘ بنائی ہے، جس کا مقصد واضح طور پر طویل عرصے سے برسراقتدار وزیراعظم بنیامین نیتنیاہو کو ساقط کرنا ہے۔ یہ اتحاد اسرائیلی انتخابات سے پہلے اپوزیشن کو متحد کرنے کی ایک نئی کوشش ہے۔ انتخابات  اکتوبر، 2026 تک ہونے ہیں۔
بینٹ، جو دائیں بازو کے سیاستدان رہے ہیں، اور لاپڈ، جو وسط پسند ہیں، 2021 میں بھی مل کر نیتنیاہو کے خلاف حکومت بنا چکے ہیں۔ اس بار ان کا اتحاد زیادہ منظم اور طاقتور دکھائی دیتا ہے۔ بینٹ نے اسے’’سب سے زیادہ صیہونی اور وطن پرست اقدام ‘‘ قرار دیا  ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ’’تقسیم کا دور ختم ہوا‘‘۔ حالیہ سروے بھی اس اتحاد کو نیتن یاہو کی لِکُوڈ پارٹی کا سب سے بڑا حریف قرار دے رہے ہیں۔
دنیا جانتی ہے کہ نیتنیاہو کی قیادت میں اسرائیل نے پچھلے کئی برسوں سے سخت گیر پالیسیاں اپنائی ہیں۔ غزہ میں طویل جنگ، لبنان اور ایران کے خلاف متعدد محاذوں پر تنازع، اور فلسطینی علاقوں میں بستیوں کی توسیع نے علاقائی استحکام کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ نیتنیاہو کی حکومت نے ’’مکمل فتح‘‘ کے نعرے لگائے، مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ جنگیں اسرائیلی معاشرے کو تھکا چکی ہیں۔ اس دوران ہزاروں انسانی جانیں ضائع ہوئی ہیں، معاشی نقصان ہوا ہے اور اسرائیل کی بین الاقوامی ساکھ شدید متاثر ہوئی ہے۔
نیتن یاہو کی سب سے بڑی کمزوری ان کی ذاتی سیاست ہے۔ کرپشن کے مقدمات، عدلیہ پر کنٹرول کی کوششیں، اور انتہا پسند دائیں بازو کے عناصر،جیسے اتمار بن گویر اور بزالیل سموٹریچ پر انحصار نے اسرائیلی جمہوریت کو کمزور کیا ہے۔ ان کی پالیسیاں نہ صرف فلسطینیوں کے لئے تباہی کا باعث بنیں بلکہ اسرائیلی عوام کو بھی مسلسل خوف اور عدم استحکام میں جکڑے رکھا۔’’سیکیورٹی‘‘ کا نعرہ لگا کر وہ طویل عرصے سے اقتدار میں ہیں، مگر ان کی حکومت نے نہ تو امن لایا اور نہ ہی مستقل استحکام۔ایک رپورٹ کے مطابق نیتنیاہو کی پالیسی سے اسرائیلی عوام میں بے مایوسی ہے۔
بینٹ اور لاپڈ کا یہ اتحاد اسرائیلی عوام کی تھکن اور مایوسی کا نتیجہ ہے۔ اگرچہ بینٹ خود دائیں بازو سے تعلق رکھتے ہیں اور عرب پارٹیوں پر اعتماد نہ کرنے کا اعلان کر چکے ہیں، تاہم ان کا نیتن یاہو سے الگ ہونا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اسرائیلی سیاست میں تبدیلی کی ہوا چل رہی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’اسرائیل کو نئی سمت کی ضرورت ہے‘‘۔ حالیہ سروے میں نیتن یاہو کی کوالیسیون کی نشستیں کم ہو رہی ہیں جبکہ اپوزیشن کو اکثریت ملنے کا امکان بڑھ رہا ہے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ اس اتحاد کی کامیابی اسرائیل کے لئے ایک موقع ہو سکتی ہے کہ وہ انتہا پسندی اور مسلسل جنگ کی پالیسی سے نکل کر زیادہ متوازن اور ذمہ دارانہ راستہ اختیار کرے۔
نیتن یاہو کا تقریباً تین دہائیوں پر محیط غلبہ اسرائیل کو علاقائی تنہائی کا شکار کر چکا ہے اور ملک کو اندرونی طور پر بھی تقسیم کر دیا ہے۔ مانا جا رہا ہے کہ اگر ’’یَچَد‘‘ پارٹی کامیاب ہوئی تو یہ کامیابی اس بات کا ثبوت ہوگی کہ اسرائیلی عوام اب نیتنیاہو کی ’’مستقل جنگ‘‘ اور انسانیت مخالف پالیسیوں سے تنگ آ چکے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جنگی جنون اور ذاتی اقتدار کی سیاست آخر کار عوام کی قیمت پر ختم ہوتی ہے۔ موجودہ صورتحال سےاسرائیل کے لئے ایک نیا باب کھلنے کا امکان پیدا ہوا ہے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ عوام اس موقع کو کس طرح سے ہینڈل کرتے ہیں۔امن اور انسانیت کے علمبردار عوام کبھی بھی نہیں چاہیں گے کہ وہ اس موقع کو کو ہاتھ سے جانے دیں۔
****