تاثیر 11 اپریل ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے دن جیسے جیسے قریب آتے جا رہے ہیں، ریاست میں بدلتے ہوئے سیاسی منظر نامے کی تصویر واضح ہوتی جا رہی ہے۔ اسی درمیان بی جے پی نے گزشتہ جمعہ کو ’’بھروسہ نامہ‘‘ کے نام سے اپنا انتخابی منشور جاری کیا۔’’بھروسہ نامہ‘‘ میں خواتین کو ماہانہ 3 ہزارروپے، بے روزگار نوجوانوں کو امداد، 45 دن میں ساتویں تنخواہ کمیشن کا نفاذ، یونیفارم سول کوڈ(یو سی سی) اور در اندازی کے خلاف زیرو ٹالرنس جیسے وعدے کیے گئے ہیں۔ مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے اس منشور کو ’’سونار بنگلا‘‘ کی طرف بڑھتا ہوا راستہ قرار دیا اور ٹی ایم سی کی 15 سالہ حکومت کو ’’سیاہ دور‘‘ قرار دیا۔ دوسری طرف، وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے بی جے پی پر تیز حملے کرتے ہوئے الزام لگایا ہےکہ ووٹر لسٹ سے جینوئن ووٹروں کے نام کاٹنے اور باہر سے لوگوں کو لانے کی سیاست کر رہی ہے۔
اس انتخابی ماحول کا سب سے متنازع پہلو خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کے تحت ووٹر لسٹ سے تقریباً 90.83 لاکھ ناموں کا حذف ہونا ہے۔چنانچہ کل ووٹرز کی تعداد 7.66 کروڑ سے گھٹ کر 6.77 کروڑ رہ گئی ہے۔ ٹی ایم سی کی مضبوط پوزیشن والے علاقوں جیسے شمالی و جنوبی 24 پرگنہ، مرشدآباد، ندیا، مالدہ وغیرہ میں 66.6 لاکھ نام ہٹائے گئے، جہاں اقلیتوں اور خواتین ووٹروں کی کثیر موجودگی ہے۔اس کے علاوہ کثیر آباد ماتوا برادری والے علاقوں میں بھی ووٹروں کی بڑی تعداد متاثر ہوئی ہے۔ ممتا بنرجی نے اسے بی جے پی کی سازش قرار دیا ہےجبکہ بی جے پی نے اسے فہرست کو صاف کرنے کا عمل قرار دیا ہے اور متاثرہ ہندو شہریوں کے نام دوبارہ ووٹر لسٹ میںشامل کرنے کی یقین دہانی کی ہے۔
بی جے پی کے منشو ر میں ترقی، روزگار، خواتین کی فلاح اور قانون کی حکمرانی پر زور دیا گیا ہے۔ کولکاتہ میں منعقد ایک پروگرام میں ’’بھروسہ نامہ‘‘جاری کرتے ہوئے جمعہ کے روز وزیر داخلہ امیت شاہ نے وعدہ کیا کہ در اندازوں کی شناخت کر کے انہیں ملک سے باہر بھیجا جائے گا، تمام سرکاری سکیموں کا نفاذ ہوگا، شمالی بنگال میں اعلیٰ تعلیمی ادارے قائم کیے جائیں گے اور مذہبی آزادی کا تحفظ کیا جائے گا۔ یہ وعدے در اصل بنگال کی معاشی پسماندگی اور انتظامی مسائل کو حل کرنے کا دعویٰ ضرور کرتے ہیں۔ تاہم، یو سی سی جیسے نکات نے اقلیتوں میں جس طرح کی تشویش پیدا کی ہے، اسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ہے۔ملک کی اقلیتی آبادی بالخصوص مسلمانوں کا روز اوّل سے یہ ماننا ہے کہ یو سی سی ان کے ذاتی قوانین میں براہ راست مداخلت ہے۔
اِدھرممتا بنرجی نے بی جے پی پر الزام لگایا کہ اسے مقامی ووٹروںپر بھروسہ نہیں ہے، اس لئے ووٹ دینے کے لئے باہر سے لوگ لائے یا جاتے ہیں۔ بی جے پی پر سخت تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ ایک’’ سانپ پر بھروسہ کیا جا سکتا ہے مگر بی جے پی پر نہیں‘‘۔ ووٹر لسٹ سے نام کاٹنے کی کارروائی کو انھوں نےغیر جمہوری عمل پر حملہ قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف پھر عدالت جانے کا اعلان کیا ہے۔ واضح ہو کہ مغربی بنگال کا یہ انتخاب نہ صرف دو بڑی پارٹیوں،ٹی ایم سی اور بی جے پی—کے درمیان مقابلہ ہے بلکہ اس سے بڑھ کر یہ بھارت کے جمہوری اقدار اور آئینی حقوق کی پاسداری سے جڑا ہوا ہے۔ ووٹر لسٹ کی صفائی ایک ضروری عمل ہے تاکہ مردہ، جعلی یا نقل مکانی کرنے والوں کے نام حذف ہوں، مگر یہ عمل شفاف، غیر جانبدار اور آئینی اصولوں کے مطابق ہی ہونا چاہئے۔ اگر اس میں کسی بھی طبقے،چاہے وہ اقلیت ہو، خاتون ہو یا کوئی مخصوص برادری کے جائز ووٹروں کو حق رائے دہی سے کسی بھی طرح سے محروم کیا جانا گویا انھیں ان کے آئینی حقوق کی ادائیگی سے انکار کرنا ہے۔در اصل جمہوریت کی خوبصورتی اسی میں ہے کہ عوام کا ووٹ فیصلہ کرے۔ کوئی بھی پارٹی جیتے یا ہارے، مگر آئین کی روح،برابری، مذہبی آزادی، منصفانہ انتخابات اور قانون کی حکمرانی پر کوئی حرف نہیں آنا چاہئے۔ وعدے اچھے ہوں تو عوام ان کا جائزہ لے سکتے ہیں، مگرجب انتخابی عمل ہی مشکوک ہو جائے تو نتیجہ خواہ کسی کے حق میں کیوں نہیں ہو ، جمہوریت کی جڑیں اکثر کمزور پڑ جاتی ہیں۔
بنگال کی تاریخ رواداری، ثقافتی تنوع اور عوامی جدوجہد کی رہی ہے۔ موجودہ انتخابی ماحول میں تمام فریقوں سے یہ توقع ہے کہ وہ ووٹروں کو خوف یا دباؤ سے آزاد رکھیں گے۔الیکشن کمیشن کو چاہئے کہ ووٹر لسٹ کی اصلاح کا عمل مکمل شفافیت کے ساتھ مکمل کرے اور متاثرہ افراد کو اپنی باتوں کو رکھنے کا مناسب موقع دے۔ پارٹیاں اپنے منشور پر بحث کریں، مگر نفرت یا تقسیم کی سیاست سے گریز کریں۔
بہر حال، بنگال کے عوام فیصلہ کریں گے کہ کون سی سیاسی جماعت ان کی امیدوں پر پورا اترتی ہے۔ مگر اس فیصلے کا بنیادی اصول آئین کی پاسداری اور سب کے آئینی حقوق کا احترام ہونا چاہئے۔ جیت کسی کی بھی ہو، اگر ملک کے جمہوری اقدار سالم رہے تو وہی حقیقی فتح ہوگی۔

