تاثیر 5 اپریل ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
مظفرپور: (نزہت جہاں) اپنی بے مثال مٹھاس اور خوشبو کے لیے دنیا بھر میں مشہور مظفرپور کی شاہی لیچی اب کسانوں کی آمدنی کا نیا ذریعہ بن گئی ہے۔ اس کا جادو اب بہار سے نکل کر پنجاب تک پہنچ چکا ہے۔
پنجاب کے پٹھانکوٹ سے آئے 22 ترقی پسند کسان ان دنوں مظفرپور میں قیام کیے ہوئے ہیں۔ یہ کسان یہاں واقع نیشنل لیچی ریسرچ سینٹر (NRCL) میں جدید تکنیکوں کی خصوصی ٹریننگ حاصل کر رہے ہیں، تاکہ اپنے صوبے میں بھی شاہی لیچی کی کامیاب کاشت کر سکیں۔
نابارڈ کے تعاون سے جاری اس پروگرام میں کسانوں کو بہتر اقسام، پودوں کی دیکھ بھال، آبپاشی اور بیماریوں سے بچاؤ کے جدید طریقے سکھائے جا رہے ہیں۔ خاص طور پر “ہائی ڈینسٹی پلانٹیشن” ماڈل پر زور دیا جا رہا ہے، جس سے کم زمین میں زیادہ پیداوار ممکن ہو رہی ہے۔سائنسدانوں کے مطابق روایتی طریقے میں جہاں پودوں کے درمیان 40-50 فٹ کا فاصلہ رکھا جاتا تھا، وہیں اب 10×15 فٹ کی دوری پر پودے لگا کر اور سال میں دو بار سائنسی کٹائی کر کے پیداوار کئی گنا بڑھائی جا سکتی ہے۔ حیران کن بات یہ سامنے آئی ہے کہ پنجاب کے بازاروں میں مظفرپور کی شاہی لیچی کو “دہرادون لیچی” کے نام سے فروخت کیا جا رہا ہے، جہاں اس کی مانگ بہت زیادہ ہے اور کسانوں کو اچھا منافع مل رہا ہے۔
پنجاب سے آئے کسان یشپال سنگھ اور بھوپیندر سنگھ کا کہنا ہے کہ وہ پہلے ہی اس فصل سے لاکھوں کما رہے ہیں اور اب نئی تکنیک سیکھ کر اپنی آمدنی میں مزید اضافہ کریں گے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ بہار کی یہ “میٹھی کرانتی” اب پورے ملک کے کسانوں کے لیے ایک مثال بن رہی ہے، اور مظفرپور ایک بار پھر زرعی نقشے پر اپنی چمک بکھیر رہا ہے۔

