تاثیر 12 اپریل ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
مغربی ایشیا میں چھ ہفتوں سے جاری تنازع نے نہ صرف ہزاروں انسانی جانوں کا ضیاع کیا ہے بلکہ علاقائی معیشتوں کو شدید دھچکا بھی پہنچایا ہے۔ سب سے بڑا بحران آبنائے ہرمز کا ہے۔ اس تنگ سمندری راستے کو حالیہ تنازع نےعالمی توانائی کا سب سے بڑا مسئلہ بنا دیا ہے۔ تصور کیجیے ایک پہاڑی علاقے میں ایک تنگ اور خطرناک راستہ ہو، جس سے ہر کاروباری قافلہ، ہر مسافر اور ہر سامان کا جہاز لازمی گزرتا ہو۔ اگر یہ تنگ راستہ بند ہو جائے یا اس میں رکاوٹیں ڈال دی جائیں تو پورا علاقے کا مفلوج ہو جانا فطری ہے۔
بالکل اسی طرح آبنائے ہرمز خلیج فارس کو عرب سمندر سے جوڑنے والا ایک تنگ بحری راستہ ہے۔یہاں سے روزانہ تقریباً 20ملین بیرل خام تیل اور مایع قدرتی گیس گزرتی ہے، جو عالمی سطح پر تقریباً 20سے 25 فیصد سمندری تیل کی تجارت کے برابر ہے۔ ایشیا کے بڑے ممالک جیسے چین، بھارت، جاپان اور جنوبی کوریا اس راستے پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں۔ ایران نے جنگی حالات میں اس اہم گزرگاہ پر پابندیاں لگا دیں، جس سے عالمی تیل کی قیمتیں آسمان کو چھو گئیں، شپنگ انشورنس کی لاگت بڑھ گئی اور بہت سے ٹینکرز نے متبادل اور لمبے راستے اختیار کر لیے۔
نیویارک ٹائمز کی تازہ رپورٹ کے مطابق، ایران نے چھوٹے بحری جہازوں کے ذریعے بے ترتیب طریقے سے سمندری مائنز بچھائی تھیں۔ ان مائنز کی درست لوکیشن ریکارڈ نہیں کی گئی اور کئی مائنز سمندری دھاروں کے ساتھ بہہ بھی گئیں۔ نتیجتاً ایران خود ان مائنز کو تلاش کرنے اور ہٹانے میں مشکلات کا شکار ہے۔ یہ تکنیکی اور انتظامی ناکامی نہ صرف ایران بلکہ پوری دنیا کے لئے سنگین چیلنج بن گئی ہے۔ بحری جہازوں کے لئے خطرہ اب بھی موجود ہے اور عالمی شپنگ کمپنیاں انتہائی احتیاط برت رہی ہیں۔
امریکہ نے آبنائے ہرمز کو فوری طور پر محفوظ اور مکمل طور پر کھولنے کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ ایران نے’’تکنیکی حدود‘‘ کا حوالہ دے کر احتیاط کا مظاہرہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ لبنان کی صورتحال اب بھی انتہائی کشیدہ ہے۔ اسرائیل کی طرف سے حزب اللہ کے خلاف جاری حملوں نے علاقے کو مزید عدم استحکام کا شکار کر رکھا ہے۔ ایرانی وفد نے واضح پیغام دیا ہے کہ اگر بات چیت میں اسرائیلی مفادات کو زیادہ اہمیت دی گئی تو کوئی معاہدہ ممکن نہیں ہوگا۔
اِدھر ، پاکستان نے ان مذاکرات کو’’ میک یا بریک ‘‘ قرار دیا ہے۔ پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل عاصم منیر سمیت اعلیٰ حکام نے دونوں وفود سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔ اسلام آباد کو سخت سیکیورٹی کے تحت لے لیا گیا ہے۔ بھارت، جو ایران کے ساتھ طویل تاریخی، ثقافتی اور اقتصادی تعلقات رکھتا ہے، اس عمل کی کامیابی کو خوش آئند سمجھتا ہے۔ چابہار بندرگاہ کا منصوبہ، ایرانی تیل کی درآمد اور خلیج کے علاقے میں استحکام بھارت کی خارجہ پالیسی کے اہم ستون ہیں۔ بھارت کی معیشت بھی اس بندش سے براہ راست متاثر ہوئی ہے، اس لئے امن کی راہ پر فطری انداز سے مسلسل آگے بڑھتے رہنا بھارت کے لئے بھی فائدہ مند ہوگا۔
تاریخ بار بار یہ سبق دے چکی ہے کہ جنگ کسی بھی تنازع کا مستقل حل نہیں ہوتی۔ حالیہ تصادم نے ثابت کر دیا ہےکہ فوجی کارروائیاں کتنی مہنگی پڑ سکتی ہیں۔ لاکھوں لوگ متاثر ہوئے، معیشتیں تباہ ہوئیں، تیل کی قیمتیں ریکارڈ سطح پر پہنچ گئیں اور عالمی تجارت کو شدید نقصان پہنچا۔ آبنائے ہرمز جیسا ایک چھوٹاسا تنگ راستہ پوری دنیا کی توانائی کی سپلائی کو مفلوج کر سکتاہے۔ اس کے برعکس سفارتکاری، بات چیت اور باہمی احترام ہی پائیدار امن کی ضمانت دیتے ہیں۔
کل 11 اپریل سےاسلام آباد میں جاری مذاکرات اگر کامیاب ہوئے تو نہ صرف مغربی ایشیا میں سکون بحال ہوگا بلکہ عالمی توانائی کی مارکیٹ بھی مستحکم ہوگی۔ ایران کو اپنی تکنیکی صلاحیتوں کو بہتر بنانے اور بین الاقوامی تعاون سے جلد از جلد مائنز ہٹانے کی ضرورت ہے۔ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو بھی علاقائی حساسیت کا احترام کرنا ہوگا۔ لبنان میں فوری سیز فائر، جوہری معاملات پر معقول سمجھوتہ اور تمام فریقوں کے جائز مفادات کا متوازن تحفظ ہی آگے کا راستہ ہو سکتا ہے۔ویسے بھارت نے ہمیشہ پرامن حل اور سفارتکاری کی حمایت کی ہے۔ امید ہے کہ تمام فریقین عقلمندی، صبر اور لچک کا مظاہرہ کرتے ہوئے جنگ کی سیاست سے جلد نکلنے کی تدابیر کریں گے۔ امن کی راہ پر چلنے میں ہی خطےکے عوام کی خوشحالی، ترقی اور معاشی استحکام مضمر ہے۔عالمی برادری کو چاہئے کہ وہ اس عمل کی کامیابی کے لئے مثبت کردار ادا کرے۔ جنگ کا دور ختم ہونا چاہئے۔ امن کی راہ ہی سب کے لئے بہتر اور محفوظ راستہ ہے۔
*************

