تاثیر 18 اپریل ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
گزشتہ جمعہ ( 17 اپریل، (2026 کو لوک سبھا میں’’آئین (131ویں ترمیم) بل ‘‘ پیش کیا گیا۔وہ ووٹنگ کے بعد ناکام ہو گیا۔ اس بل کا مقصد 2023 کے ’’ ناری شکتی وندن ایکٹ‘‘ کو عملی شکل دینا، خواتین کو لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں میں 33 فیصد ریزرویشن یقینی بنانا، 2026 سے قبل کی مردم شماری کی بنیاد پر حلقوں کی نئی حد بندی ( ڈی لمیٹیشن) کی اجازت دینا اور لوک سبھا کی نشستیں 543 سے بڑھا کر 850 کرنا تھا۔ آئینی ترمیم کے لئے دو تہائی اکثریت درکار تھی، مگر بل کے حق میں 298 ووٹ پڑے جبکہ مخالفت میں 230 ووٹ آئے۔ نتیجتاً بل منظور نہ ہو سکا اور متعلقہ ڈی لمیٹیشن اور یونین ٹیریٹریز کے بل بھی واپس لے لیے گئے۔
یہ واقعہ بھارتی جمہوریت کی ایک اہم خصوصیت کو اجاگر کرتا ہے۔ آئین کے آرٹیکل 368 کے تحت ترمیم کے لئے معمولی اکثریت کافی نہیں ہوتی بلکہ دو تہائی اکثریت ضروری ہے۔ اس تقاضے کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ ملک کے بنیادی ڈھانچے میں کوئی تبدیلی اتفاق رائے اور وسیع غور و فکر کے بعد ہی ہو۔ اس بل کی ناکامی اس اصول کی پاسداری کی مثال ہے، جو پارلیمنٹ کی بالادستی اور آئینی عمل کی اہمیت کو ثابت کرتی ہے۔
حکومت نے اس بل کو خواتین کے سیاسی بااختیار ہونے کا اہم قدم قرار دیاتھا۔ خواتین کی نمائندگی میں اضافہ واقعی ایک مثبت اور ضروری قدم ہے۔ بھارت جیسی بڑی جمہوریت میں خواتین، جو آبادی کا تقریباً آدھا حصہ ہیں، کو قانون ساز اداروں میں مناسب جگہ ملنی چاہئے۔ 2023 کا بل پہلے ہی تمام پارٹیوں کی حمایت سے منظور ہو چکا تھا، جو اس بات کا مظہر ہے کہ خواتین ریزرویشن پر قومی سطح پر اتفاق رائے موجود ہے۔ اسے جلد از جلد نافذ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ خواتین کے سیاسی حقوق کا عملی مظاہرہو سکے۔ تاہم، بل میں شامل ڈی لمیٹیشن اور لوک سبھا کی نشستیں بڑھانے جیسے پہلوؤں نے کئی ریاستوں کے خدشات کو جنم دیا تھا۔ جنوبی ریاستوں سمیت کئی علاقوں میں یہ احساس تھا کہ نئی حد بندی آبادی کے تناسب سے شمالی ریاستوں کو زیادہ نمائندگی دے سکتی ہے، جو وفاقی توازن کو متاثر کر سکتی ہے۔ یہ خدشات جمہوری بحث کا حصہ ہیں اور ان پر تمام فریقوں کے درمیان کھلے مکالمے کی ضرورت ہے۔ وفاقی ڈھانچے کا احترام بھارت کی اتحاد کی بنیاد ہے، اس لئے کوئی بھی تبدیلی تمام ریاستوں کے مفادات کے مدنظر کی جانی چاہئے۔
کانگریس لیڈر پریانکا گاندھی نے بل کی ناکامی کو ’’جمہوریت اور آئین کی بڑی جیت ‘‘ قرار دیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ 2023 کا بل فوری طور پر نافذ کیا جا سکتا ہے۔ دوسری طرف، حکومت نے اسے خواتین کے حقوق میں رکاوٹ قرار دیا ہے۔ سیاسی اختلافات فطری ہیں، مگر انہیں خواتین کے مسئلے کو سیاسی نقطہ نظر سے دیکھنے کا ذریعہ نہیں بنانا چاہئے۔ خواتین کا مسئلہ قومی ترقی کا مسئلہ ہے، نہ کہ کسی ایک فریق کا۔ تمام پارٹیاں مل کر اسے آگے بڑھانے کا راستہ تلاش کریں۔
جمہوریت کی خوبصورتی اس میں ہے کہ اکثریت کے ساتھ ساتھ اقلیت کی آواز اور آئینی تحفظات کا بھی خیال رکھا جائے۔ اس بل کی بحث نے یہ واضح کیا کہ حساس مسائل جیسے مردم شماری، حد بندی اور نمائندگی پر اتفاق رائے کے بغیر آگے بڑھنا مشکل ہے۔ اب ضروری ہے کہ حکومت اور مخالفین دونوں مل کر 2023 کے بل کو عملی شکل دیں۔ اگر معمولی ترامیم کی ضرورت ہے تو ان پر غور کیا جائے اور خواتین کو ان کے حقوق جلد از جلد دیے جائیں۔اس کے ساتھ ہی، ڈی لمیٹیشن جیسے عمل کو شفاف، غیر جانبدار اور تمام علاقائی خدشات کو سامنے رکھتے ہوئے انجام دیا جائے۔
بلا شبہ بھارت کی طاقت اس کی وحدت اور تنوع میں ہے۔ سیاسی قیادت کو چاہئے کہ وہ اس موقع کو الزام تراشی سے بالاتر ہو کر قومی مفاد میں استعمال کرے۔ خواتین کی نمائندگی بڑھانا نہ صرف انصاف ہے بلکہ ملک کی ترقی کے لئے بھی ناگزیر ہے۔آئین کی بالادستی اور جمہوری عمل کا احترام ہی بھارت کو مضبوط بناتا ہے۔ اس بل کی ناکامی کو ناکامی نہ سمجھا جائے بلکہ اسے اتفاق رائے کی اہمیت کا سبق سمجھا جائے۔ تمام فریق مل کر خواتین کو بااختیار بنائیں اور وفاقی ہم آہنگی کو فروغ دیں۔ یہی حقیقی قومی ترقی کا راستہ ہے۔
**********

