اندور نگر نگم کی خاتون کونسلروں کے بیان نے طول پکڑا، وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو کا سخت ردعمل

تاثیر 12 اپریل ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

بھوپال، 11 اپریل : اندور نگر نگم میں بجٹ کانفرنس کے دوران کانگریس کونسلروں کی جانب سے وندے ماترم کی توہین اب طول پکڑتی جا رہی ہے۔ کانگریس کونسلر روبینہ اقبال خان اور فوزیہ شیخ علیم نے ایوان میں مذہب کا حوالہ دیتے ہوئے قومی گیت وندے ماترم گانے سے منع کر دیا تھا، دیگر ارکان نے اس کی مخالفت کی لیکن کانگریس کی جانب سے ابھی تک اس پر کوئی سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ اب اس معاملے پر مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے سخت ردعمل دیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اس پر پوری ریاستی کانگریس کو استعفیٰ دے دینا چاہیے۔ کانگریس اپنے دوہرے کردار سے باہر نہیں نکل پا رہی۔ انہوں نے کہا کہ اندور نگر نگم کی خاتون کونسلروں نے بے شرمی کی حد پار کر دی۔وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے ہفتہ کو میڈیا کو جاری اپنے بیان میں کہا کہ بڑے افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ کانگریس کی کونسلر نے نگر نگم میں وندے ماترم گانے سے انکار کیا اور بڑی بے شرمی کے ساتھ کہا کہ میں نہیں گاوں گی۔ یہ کانگریس کا کردار بتا رہا ہے۔ کانگریس کونسلر بھارت ماتا کی جے بولنے سے بھی منع کرتے ہیں۔ کانگریس کے صوبائی صدر جیتو پٹواری، کانگریس کے قومی صدر، حزبِ اختلاف رہنما راہل گاندھی اس پر وضاحت دیں۔ وہ بتائیں کہ پارٹی اس طرح کے لوگوں کی حوصلہ افزائی کیوں کرتی ہے۔
وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ یہ لوگ ملک کو کہاں لے جائیں گے، محبِ وطنوں کی توہین کریں گے۔ ہزاروں محبِ وطنوں نے بھارت ماتا کی جے بولتے بولتے جانیں قربان کر دیں۔ مجھے اس بات کا بڑا دکھ اور مجھے اس معاملے پر ندامت ہو رہی ہے۔ صوبائی صدر جیتو پٹواری جو ہر معاملے پر بولتے ہیں، وہ اب اس پر کیوں نہیں بول رہے۔ کانگریس کی کونسلر کے تبصرے پر ان کا کیا کہنا ہے۔ اگر اس پر پٹواری اور کانگریس لیڈر کوئی کارروائی نہیں کر پاتے، تو سبھی کو استعفیٰ دے دینا چاہیے۔