اسرائیل، ایران، کویت اور لبنان میں جنگ میں آئی شدت، آسمان سے آگ کے گولے برس رہے ہیں

تاثیر 2 اپریل ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

تہران/تل ابیب/دبئی، 2 اپریل:۔ 28 فروری کو ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ فوجی مہم اب تقریباً تمام خلیجی ممالک تک پھیل چکی ہے۔ امریکی-اسرائیلی حملوں کے جواب میں، ایران نے اسرائیل اور اس کے خلیجی اتحادیوں میں فوجی، سویلین اور تجارتی اہداف پر حملے تیز کر دیے ہیں۔

عالمی برادری کے دباو¿ پر ایرانی قیادت نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی لڑائی کے خاتمے کی درپردہ کوششوں کو مسترد کر دیا ہے۔ بگڑتی ہوئی صورتحال کے درمیان امریکا نے عرب ممالک سے اپنے شہریوں کے انخلا کے لیے ایڈوائزری جاری کی ہے۔

مغربی اور خلیجی ممالک کی حالیہ میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیل، ایران، کویت اور لبنان میں جنگ کی شدت عروج پر ہے۔ ایران ہر اس عرب ملک پر حملہ کر رہا ہے جو امریکی فوجیوں کی میزبانی کرتا ہے یا اس کا اتحادی ہے۔ امریکہ نے اپنے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر عراق چھوڑ دیں۔ راکٹ، میزائل اور ڈرون حملے آسمان سے مسلسل آگ کے گولے برسا رہے ہیں۔

الجزیرہ چینل کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج (آئی ڈی ایف) نے کہا ہے کہ تہران میں آج ایک بڑا حملہ کیا گیا ہے۔ آئی ڈی ایف کا دعویٰ ہے کہ کل ایران کے دارالحکومت تہران میں پاسداران انقلاب اسلامی (آئی آر جی سی) کے ایک بڑے انفراسٹرکچر کو زمین بوس کر دیا گیا۔ آئی ڈی ایف نے ٹیلی گرام چینل پر ایک بیان جاری کیا اور لکھا کہ تہران میں نشانہ بنائے گئے اہداف میں آئی آر جی سی کے ایک اہم زمینی فوجی اڈے پر بھی حملہ کیا گیا۔ ایک اور فوجی ہیڈ کوارٹر پر بھی حملہ کیا گیا جہاں کمانڈ موجود تھا۔ تبریز میں ایک بیلسٹک میزائل ذخیرہ کرنے والے مرکز کو اڑا دیا گیا۔ بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ جنگ کے آغاز سے لے کر اب تک اسرائیل نے ایران بھر میں آئی آر جی سی اور ایرانی فوج کے سینکڑوں ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔