تاثیر 5 اپریل ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
ایران-امریکہ-اسرائیل جنگ کا پانچویں ہفتے میں داخل ہونا ایک ایسے کھیل کی یاد دلاتا ہے، جس میں روزانہ شہ مات کے حربے آزمائے جا رہے ہیں۔ 28 فروری 2026 کو شروع ہونے والی اس جنگ میں امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فضائی حملے کیے، جن میں ایرانی قیادت کے اہم مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔ اسی تناظر میں 28 فروری سے جاری تنازع میں پہلی بار ایران نے امریکی ایف ۔ 15 ای لڑاکا طیارے کو اپنی سرزمین پر مار گرایا۔ یہ واقعہ نہ صرف امریکی فوجی برتری کی حقیقت کو عیاں کرتا ہے بلکہ ایران کی دفاعی صلاحیت اور عزم کی عکاسی بھی کرتا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق طیارے میں دو عملہ ارکان تھے۔ ایک کو ابتدائی طور پر بچا لیا گیا جبکہ دوسرے کو پہاڑی علاقے میں تلاش کیا جا رہا تھا۔ ایران نے فوری طور پر مقامی عوام سے اپیل کی کہ لاپتا پائلٹ کو پکڑ کر پیش کرنے والے کو انعام دیا جائے گا۔ اس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان ایک دوڑ شروع ہو گئی۔ امریکی خصوصی فورسز نے ایک خطرناک اور پیچیدہ ریسکیو آپریشن کیا، جس میں درجنوں لڑاکا طیاروں اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسے امریکی تاریخ کے’’سب سے نایاب اور خطرناک‘‘ بچاؤ آپریشنوں میں سے ایک قرار دیا ہے۔ تاہم یہ حقیقت کہ ایران نے جدید امریکی طیارے کو مار گرایا، امریکی فوج کی کمزوری کو بھی نمایاں کرتی ہے۔
ایران کی جانب سے یہ کارروائی ایک دفاعی اقدام تھی۔ امریکی اور اسرائیلی حملوں کے سامنے ایران نے اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا دفاع کیا ہے۔ ایف۔ 15 ای کا نشانہ بننا اس بات کی دلیل ہے کہ ایرانی فضائی دفاعی نظام اب بھی فعال اور مؤثر ہے۔ ایران نے ماضی میں بھی غیر ملکی جارحیت کا سامنا کیا ہے۔ 1979 کے ایرانی انقلاب کے بعد امریکی سفارت خانے پر قبضہ اور 444 دن تک امریکی شہریوں کو یرغمال بنانے کی تاریخی مثال، یا 2007 اور 2016 میں برطانوی اور امریکی فوجیوں کی عارضی حراست، یہ سب ایران کی اس عزم کو ظاہر کرتے ہیں کہ وہ اپنی سرزمین پر کوئی بیرونی مداخلت برداشت نہیں کرے گا۔
واضح ہو کہ اس جنگ کا پس منظر جارحانہ ہے۔ امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے جوہری تنصیبات، میزائل اڈوں اور فوجی اڈوں کو سب سے پہلے نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں ایرانی عوام کو بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا۔ ایرانی میڈیا اور عالمی رپورٹس کے مطابق شہری علاقوں، اسپتالوں اور بنیادی ڈھانچے کو بھی نقصان پہنچا۔ ایران نے اس جارحیت کا جواب دیا، جس میں اسرائیل اور علاقائی امریکی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ اس تناظر میں ایف ۔15 ای کا مارا جانا ایک جواب تھا، نہ کہ ابتدائی جارحیت۔اِدھرامریکہ کا ریسکیو آپریشن اگرچہ تکنیکی طور پر متاثر کن ہے، لیکن یہ اس حقیقت کو نہیں چھپا سکتا کہ طیارہ ایرانی فضائی حدود میں مارا گیا۔ ٹرمپ کا بیان کہ ’’ہم اپنے فوجیوں کو پیچھے نہیں چھوڑتے‘‘ امریکی طاقت کا پروپیگنڈا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ ایران نے امریکی فوج کو اپنی سرزمین پر داخل ہونے پر مجبور کیا۔ یہ واقعہ امریکی فوجی مہم جوئی کی حقیقت کا بھی پردہ فاش کرتا ہے۔
بعض مبصرین کا ماننا ہے کہ بھارت کی خارجہ پالیسی اس جنگ میں متوازن اور اصول پر مبنی رہی ہے۔ بھارت نے علاقائی استحکام، سفارتی حل اور تمام فریقین سے تحمل کا مطالبہ کیا ہے۔ بھارت ایران کے ساتھ تاریخی اور اقتصادی تعلقات رکھتا ہے، خاص طور پر چابہار بندرگاہ اور توانائی کے شعبے میں۔ بھارت کی حکومت نے واضح کیا کہ وہ کسی بھی جارحیت کی مذمت کرتی ہے اور پرامن حل کی حمایت کرتی ہے۔ بھارت کی یہ پوزیشن نہ صرف اس کی غیر جانبدار خارجہ پالیسی کی عکاسی کرتی ہے بلکہ یہ بھی ظاہر کرتی ہے کہ وہ علاقائی طاقتوں کے درمیان تنازع کو مزید بڑھنے سے روکنا چاہتا ہے۔ بھارت جیسے ملک جو خود کثیر المذاہب اور کثیر الثقافتی ہیں، جانتے ہیں کہ جنگ کے نتیجے میں صرف انسانی جانوں کا ضیاع نہیں ہوتا بلکہ علاقائی امن بھی متاثر ہوتا ہے۔چنانچہ یہ حقیقت ہے کہ اس جنگ سے عالمی معیشت بھی متاثر ہو رہی ہے۔آبنائے ہرمز کی بندش، تیل کی قیمتیں اور عالمی سپلائی چین پر دباؤ اس کی واضح مثالیں ہیں۔ ایران کی مزاحمت نہ صرف اس کی خودمختاری کی حفاظت کر رہی ہے بلکہ یہ پیغام بھی دے رہی ہے کہ بڑی طاقتوں کی جارحیت کے سامنے چھوٹی قومیں بھی ڈٹ کر کھڑی ہو سکتی ہیں۔
بلا شبہ ایران کی قیادت اور عوام نے دکھا دیا کہ وہ اپنے وطن کی حفاظت کے لئے ہر قیمت چکانے کو تیار ہیں۔ایف ۔ 15 ای جیسے جدید طیارے کو مار گرانا ایک بڑی کامیابی ہے، جو ایرانی فوج کی پیشہ ورانہ صلاحیت کو ثابت کرتا ہے۔ تاہم جنگ کا تسلسل انسانی المیے کو بڑھا رہا ہے۔اس وقت ضرورت ہے کہ عالمی برادری، خصوصاً اقوام متحدہ، فوری طور پر مداخلت کرے اور جنگ بندی کا مطالبہ کرے۔ سفارتی راستہ ہی واحد حل ہے، جو خطے کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے۔ ایران کی مزاحمت ایک سبق ہے کہ جارحیت کا جواب مزاحمت سے دیا جاتا ہے، مگر امن ہی سب کے لئے بہتر ہے۔ بھارت جیسے ممالک کی آواز اس سمت میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

