امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خفیہ زیرِ زمین فضائی اڈے پرکی بم باری ،سیٹلائٹ تصاویر کے ذریعہ انکشاف

تاثیر 13 اپریل ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

واشنگٹن،13اپریل:سیٹلائٹ تصاویر سے انکشاف ہوا ہے کہ ایران کے جنوب میں ایک دور افتادہ پہاڑی علاقے میں واقع ’عقاب 44‘ نامی خفیہ زیرِ زمین فضائی اڈے کو گذشتہ مارچ کے آخر میں فضائی حملوں کا نشانہ بنایا گیا، یہ ایک ایسا حملہ تھا جس کا پہلے اعلان نہیں کیا گیا تھا۔امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق تصاویر میں پہاڑی سلسلے کے نیچے چھپائے گئے طیاروں کی پناہ گاہوں کی طرف جانے والی سرنگوں کے داخلی راستوں پر فضائی حملوں کے نتیجے میں پڑنے والے گڑھے دکھائی دے رہے ہیں۔ انداوں کے مطابق ان نقصانات نے رن وے تک رسائی کو معطل کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں طیارے اڈے کے اندر ہی پھنس کر رہ گئے ہیں۔
تصاویر سے اس فوجی تنصیب کے اندر جاری تعمیراتی کام سے وابستہ ایک عمارت کی تباہی کا بھی پتہ چلتا ہے۔ اس کے علاوہ رن وے پر مٹی کے ڈھیر اور چھوٹی رکاوٹیں بھی نظر آ رہی ہیں، جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ ایرانی افواج نے دشمن کے طیاروں کو لینڈنگ سے روکنے کے لیے وہاں رکھی ہیں۔اخبار نے مارچ کے دوران لی گئی کئی تصاویر کا جائزہ لیا جن میں مہینے کے اختتام تک طیاروں کی نقل و حرکت کے راستوں پر نئے نقصانات ظاہر ہوئے، جبکہ سرنگوں کے کچھ داخلی راستے تنازع کے ابتدائی مراحل کے دوران بھی حملوں کا نشانہ بن چکے تھے۔ فوجی تنصیبات کو نشانہ بنائے جانے کے دوران عام طور پر جو صورتحال ہوتی ہے اس کے برعکس، اس حملے کی عینی شاہدین کی جانب سے بنائی گئی کوئی وڈیو سامنے نہیں آئی، اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ صرف سیٹلائٹ تصاویر نے ہی ان نقصانات کی حد کو دستاویزی شکل دی ہے۔امریکی یا اسرائیلی فوج کی جانب سے اس آپریشن کے حوالے سے اخبار کی درخواستوں پر کوئی سرکاری تبصرہ سامنے نہیں آیا۔