اے اے پی رہنماؤں پر توہین عدالت کا معاملہ

تاثیر 19 مئی ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

دہلی کے مبینہ شراب گھوٹالے (آبکاری پالیسی) کے کیس میں عام آدمی پارٹی( اے اے پی) کی مشکلات بڑھ گئی ہیں۔ دہلی ہائی کورٹ کی ڈویژن بینچ نے پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال، سابق نائب وزیراعلیٰ منیش سسودیا، سنجے سنگھ، سوروبھاردواج اور دیگر پانچ سینئر رہنماؤں کو مجرمانہ توہینِ عدالت کا نوٹس جاری کر دیا ہے۔ عدالت نے ان سب کو جواب دینے کے لئے چار ہفتے کا وقت دیا ہے۔ کیس کی اگلی سماعت 4 اگست کو ہوگی۔
یہ نوٹس جسٹس سورن کانتا شرما کی درخواست پر جاری کیا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ جب انہوں نے اے اے پی رہنماؤں کی درخواست مسترد کی تھی کہ وہ خود کو کیس سے الگ کر لیں، تو اس کے بعد پارٹی نے سوشل میڈیا پر ان کی اور پوری عدلیہ کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی منظم مہم چلائی۔ عدالت نے اسے’’سوچی سمجھی سازش‘‘ قرار دیا ہے۔حالانکہ اروند کیجریوال اور منیش سسودیا نے عدالت کے طریقہ کار پر شدید اعتراض کیا ہے۔ دونوں نے الگ الگ خط لکھ کر کہا ہے کہ وہ اس کیس میں کوئی وکیل نہیں رکھیں گے۔ سسودیا نے لکھا کہ ’’میرے پاس ستیاگرہ کے سوا کوئی راستہ نہیں بچاہے‘‘۔ کیجریوال نے بھی جج کے بعض پیشہ ورانہ روابط اور کیس کی الاٹمنٹ پر سوالات اٹھائے تھے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ انہیں اس کیس میں انصاف ملنے کا بھروسہ نہیں رہا، البتہ وہ عدلیہ کے ادارے پر اعتماد رکھتے ہیں۔
دہلی ہائی کورٹ نے کیجریوال کی رِکازوالی درخواست مسترد کرتے ہوئے سخت الفاظ میں کہا ہے کہ ’’عدالت کو قیاس آرائیوں کا فورم نہیں بنایا جا سکتاہے‘‘۔ عدالت کا موقف ہے کہ بغیر ٹھوس ثبوت کے جج کی غیر جانبداری پر سوال اٹھانا پورے عدالتی نظام کی ساکھ کو کمزور کرتا ہے۔اس معاملے میں دو باتیں اہم ہیں۔ پہلی یہ کہ عدلیہ کو بے خوف ہو کر کام کرنے کا حق ہے۔ اگر سیاسی لیڈر سوشل میڈیا پر ججوں کے خلاف منظم مہم چلائیں تو عدالت پر دباؤ پڑتا ہے۔ بھارت جیسے بڑے جمہوری ملک میں عدالتیں آخری امید ہوتی ہیں۔ ان کی عزت اور آزادی کو برقرار رکھنا ضروری ہے۔دوسری اہم بات یہ ہے کہ سیاسی پارٹیوں کو اپنے جائز احتجاج کا حق بھی حاصل ہے۔اے اے پی کا کہنا ہے کہ یہ کیس سیاسی انتقام سے متعلق ہے اور وہ عدلیہ سے انصاف چاہتی ہے۔ اگر کسی کو واقعی لگتا ہے کہ انصاف متاثر ہو رہا ہے تو اسے آئینی طریقے سے آواز اٹھانے کا حق ہے۔
تاہم، احتجاج کی حد بھی ہوتی ہے۔ سوشل میڈیا پر ججوں کی ذاتی ساکھ پر حملہ، ان کے خاندان یا روابط کو نشانہ بنانا، اور انہیں جانبدار ثابت کرنے کی مہم عدالتی اصولوں کے خلاف ہے۔ اے اے پی نے ماضی میں خود عدالتی فیصلوں کی تعریف کی تھی، جب وہ اس کے حق میں تھے۔ اب جب فیصلہ اس کے خلاف آیا تو شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ یہ دوہرا معیار سیاسی جماعتوں کے لئے اچھا نہیں ہے۔ایسے میں کیجریوال اور سسودیا کا وکیل نہ رکھنے کا فیصلہ ایک سیاسی پیغام ہے، مگر قانونی طور پر یہ ان کے دفاع کو کمزور بھی کر سکتا ہے۔ عدالت کو اب شفاف اور صبر کے ساتھ سماعت کرنی چاہئے اوراے اے پی رہنماؤں کو اپنا موقف پیش کرنے کا مکمل موقع دینا چاہئے۔یہ طے ہے کہ بھارت میں قانون کی حکمرانی اور جمہوری اداروں کی ساکھ تب ہی مضبوط رہے گی جب سیاسی پارٹیاں احتجاج کریں تو آئینی حدود میں رہیں اور عدالتی ادارے بھی جائز تنقید کو برداشت کرنے کا حوصلہ دکھائیں۔
بہر حال اس کیس کا فیصلہ نہ صرف اے اے پی قیادت کے مستقبل کا بلکہ سیاسی جماعتوں اور عدلیہ کے درمیان تعلقات کا بھی تعین کرے گا۔ایسے میں دونوں فریقوں کو چاہئے کہ وہ ذمہ داری، برداشت اور بالغانہ رویہ اختیار کریں۔ سیاستدانوں کو یاد رکھنا چاہئے کہ عدلیہ پر حملہ دراصل عوام کی آخری امید پر حملہ ہے، جبکہ عدلیہ کو بھی یہ یقینی بنانا ہوگا کہ اس کی کارروائی ہر طبقے کے لئے منصفانہ اور شفاف نظر آئے۔ صرف اسی صورت میں ہمارا جمہوری نظام مضبوط ہو سکتا ہے اور عوام میں اداروں کے حوالے سے اعتماد بحال رہ سکتا ہے۔
*********