تاثیر 8 مئی ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
پٹنہ (پریس ریلیز) فورم فار پیس اینڈ جسٹس کا ایک وفد نے 8 مئی جمعہ کو ایم ایل اے اختر الایمان، ممتاز سیاست دان اشفاق رحمن ، سابق اسپیکر ادے نارائن چودھری ، سابق ڈی آئی جی محمد عبداللہ کی قیادت میں مظفر پور ضلع کے سرایا گاؤں کا دورہ کیا- جہاں گزشتہ دنوں ایک نابالغ مسلم دوشیزہ نسرین کی آبرو ریزی کر بے دردی سے قتل کرنے کے بعد اس کی لاش کو درخت سے لٹکا دیا گیا تھا۔ لڑکی کے اہل خانہ کا دعویٰ ہے کہ پولیس واقعے کو غیر فطری موت قرار دے کر اس پر پردہ ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے۔ فورم نے معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے سرایا گاؤں کا دورہ کیا،- متاثرہ کے خاندان سے ملاقات کر پوری جانکاری حاصل کی۔ تفصیل جاننے کے بعد وفد نے متاثرہ خاندان کو انصاف دلانے کی یقین دہانی کرائی۔ مقامی آر جے ڈی ایم ایل اے شنکر پرساد یادو، اے آئی ایم آئی ایم ایم ایل اے غلام سرور، سرور عالم اور مرشد عالم بھی موجود تھے۔ انجینئرز آفتاب عالم، رانا رنجیت، محمد جوہر، مشیر عالم، منظور عالم، سراج انور و دیگربھی اس کارواں میں شامل رہے ۔ اشفاق رحمن نے متاثرہ خاندان کو یقین دلایا کہ انہیں انصاف ملے گا اور فورم ہر سطح پر ان کے ساتھ کھڑا ہے۔ انہوں نے میڈیا سے کہا کہ فورم کی تشکیل نفرت کے خلاف ایک مضبوط محاذ کھڑا کرنے کے لئے کیا گیا ہے۔اس مہم میں او دئے نرائن چودھری ،رانا رنجیت جیسے سلجھے اور سمجھدار لوگوں کا کارواں بھی فورم کے شانہ بشانہ کھڑا ہے ۔ایک وفد جلد ہی پٹنہ کے لال باغ کا دورہ بھی کرے گا جہاں گھر میں گھس کر مسلم نو جوان کا چاقو سے گود کر بہیمانہ قتل کر دیا ۔فورم اس واقعۂ کا شدید مزمت کرتا ہے۔
اخترالایما ن نے سرایا کی واردات پر بتایا کہ پولیس نے اس گھناؤنے معاملے میں ایف آئی آر درج کر لی ہے، لیکن یہ انتہائی افسوسناک ہے کہ ابھی تک کوئی مجرم گرفتار نہیں ہو سکا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس طرح کے واقعات سے علاقے کے مسلمانوں میں خوف و ہراس کا ماحول ہے۔ تاہم ہندو برادری لڑکی کے ساتھ ہونے والی اس بربریت سے شدید غمزدہ ہے۔ گاؤں میں ہندو مسلم اتحاد متاثر نہیں ہوا ہے۔ادئے نرائن چودھری نے گاؤں کے لوگوں سے اپیل کی ہے کی نسرین گاؤں کی بیٹی تھی اور اس کے انصاف ملنے تک سب کو مل جل کر لڑنا ہے اور ایک ساتھ رہنا ہے۔
وفد نے مقامی انتظامیہ سے بھی ملاقات کی اور مطالبہ کیا کہ تمام نامزد مجرموں کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے اور فاسٹ ٹریک عدالت کے ذریعے سخت ترین سزا دی جائے تاکہ ملک میں نفرت کی فضا کو روکا جا سکے۔ وفد نے متاثرہ خاندان کے لیے معاوضے اور سیکیورٹی کا بھی مطالبہ کیا۔ نابالغ لڑکی نسرین کے معاملے میں وفد نے مظفر پور کے ایس ایس پی کانتیش مشرا کو بتایا کہ پولیس نے اس حساس معاملے میں اب تک غیر سنجیدہ رویہ اپنایا ہے۔ فورم نے تمام پہلوؤں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا اور ایس ایس پی سے اپیل کی کہ وہ اس کیس میں ذاتی طور پر مداخلت کریں تاکہ متاثرہ خاندان کو انصاف مل سکے۔ فورم نے واضح کیا کہ وہ انصاف کی اس لڑائی میں متاثرہ خاندان کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے ہیں اور کسی بھی سطح پر کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ سابق ڈی آئ جی عبداللہ نے بتایا کہ انتظامیہ نے یقین دلایا ہے کہ معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے فوری اور مناسب کارروائی کی جائے گی۔ سرایا کے لیے روانہ ہونے سے پہلے مانک پور چوک پر مقامی آر جے ڈی ایم ایل اے نے وفد کا استقبال کیا۔

