آستھاکی آڑ میں خورد برد کا کھیل

تاثیر 18 جون ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

بابری مسجد کی جگہ پر بنایا گیا رام مندر اِن دنوں خوب چرچا میںہے۔چرچا کی وجہ مندر کے دان پاتروں (چڑھاوے) کی رقم میں سے مبینہ خورد برد کا سنگین الزام ہے۔معاملے کی جانچ کے لئے اتر پردیش کی یوگی آدتیہ ناتھ حکومت نے ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) کی تشکیل کی ہے۔ایس آئی ٹی نے پچھلے دنوں متعدد اہم شخصیات سے پوچھ گچھ کی ہے۔ظاہر ہے، یہ معاملہ صرف مالی بدعنوانی کا نہیں بلکہ عوامی عقیدت، انتظامی ذمہ داری اور احتساب کے نظام کی ساکھ سے براہ راست جڑا ہوا ہے۔
رپورٹس کے مطابق خورد برد کا یہ سلسلہ تقریباً ڈیڑھ سال تک جاری تھا۔گزشتہ مہا کمبھ اور ماگھ میلے کے دوران جب لاکھوں عقیدت مند اودھیا پہنچے، تو چڑھاوے کی رقم میں زبردست اچھال آیا تھا۔ اسی موقع پر مبینہ طور پر روزانہ 10 سے 15 لاکھ روپے تک کی رقم غائب کی جاتی رہی۔ سوشل میڈیا پر اس رقم کا تخمینہ 200 کروڑ سے 1400 کروڑ روپے تک لگایا جا رہا ہے، جبکہ ابتدائی تفتیش میں 8 کروڑ سے زائد کی ہیرا پھیری کے شواہد ملے ہیں۔ نہ صرف نقدی بلکہ سونے چاندی کے زیورات اور حتیٰ کہ دو کلو سونے کی گدا کے بھی غائب ہونے کی باتیں سامنے آ رہی ہیں۔
غبن کا طریقۂ کار انتہائی منظم اور شاطرانہ تھا۔ سٹیٹ بینک آف انڈیا (ایس بی آئی) کو گنتی کی ذمہ داری سونپی گئی تھی، مگر بینک نے آؤٹ سورسنگ کمپنی کے ذریعے ملازمین رکھے۔ بھائی بھتیجاواد کا کھیل بھی کھل کر کھیلا گیا۔ ’ٹِنّو‘ نامی شخص، جو مبینہ طور پر مندر ٹرسٹ کے ایک بڑے عہدیدار کا قریبی تھا، نے اپنے 35-40 رشتہ داروں اور واقف کاروں کو نوکری دلائی۔ گنتی سے پہلے پوری رقم کوایک جگہ جمع کر لیا جاتا، پھر گنتی کے دوران ہی اپنا اپنا حصہ نکال لیا جاتا تھا۔ آخر میں جو بچتا، اسی کا ریکارڈ تیار کیا جاتا رہا۔12 سے 18 ہزار کی تنخواہ والے عملہ کی آمدورفت پر کوئی تلاشی نہ لی جاتی تھی۔ سی سی ٹی وی نگرانی بھی شبہات کے دائرے میں ہے۔بعض رپورٹس کے مطابق آٹھ ماہ کے فوٹیج ڈیلیٹ کر دیےگئے ہیں۔ہاتھ کی صفائی کے اس کھیل میں نچلی سطح کے ملازمین (لوکش مشرا، اونیش، انوکلپ، کرون، رماشنکر وغیرہ) تو شامل ہیں ہی، مگر غبن کے تار اعلیٰ سطح تک بھی پہنچ رہے ہیں۔ ٹِنّو کی جائیدادوں یعنی 50 کروڑ سے زائد کی بے نامی پراپرٹی، 70 کمروں والا ہاسٹل کے علاوہ ٹرسٹ کے عہدیداروں مثلاََچمپت رائے، انیل مشرا اور گوپال راؤ وغیرہ کی مبینہ لاپروائی اورایس بی آئی افسران کی ممکنہ ملی بھگت زیرِ تفتیش ہیں۔مبینہ طور پر گوپال راؤ کا بھتیجاسومیش آنند کے مشکوک ٹریولز بھی سامنے آئیں۔
یہ معاملہ عوام کے سامنے اس وقت آیا جب سماجوادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو نے اسے ایکس پر اٹھایا اور سپریم کورٹ سے از خودنوٹس لینے کی اپیل کی۔ چرچا ہے کہ ٹرسٹ نے ابتدا میں معاملے کو دبانے کی کوشش کی، مگر دباؤ بڑھنے پر خود حکومت سے تحقیقات کی درخواست کی۔ایس آئی ٹی کی تشکیل اور تیز رفتار کارروائی (ریکارڈز، سی سی ٹی وی ، بینک افسران سے پوچھ گچھ) حکومت کی جانب سے مثبت اِقدام ہے۔حالانکہ یہ واقعہ اپنے آپ میں کئی سنگین سوالات کی مانند ہے۔ سب سے بڑا سوال یہ کہ جہاں لاکھوں عقیدت مندوں  کے چڑھاوے میں اتنی بڑی بدعنوانی کیسے ممکن ہوئی؟ رام مندرکروڑوں ہندو بھائیوں کی آستھا کا مرکز ہے۔ اگر اس آستھا کے ساتھ اتنا بڑا کھلواڑ ہوگیا تو یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ دوسرا، انتظامی ناکامی واضح ہے۔ ٹرسٹ کی نگرانی، آڈٹ سسٹم، آؤٹ سورسنگ میں احتیاط اور سی سی ٹی وی مانیٹرنگ سب ناکام رہے۔ ظاہر ہے یہ سب کچھ مندر احاطے میں پھیلی ہوئی بد عنوانی، بھائی بھتیجاواد اور پیروی کلچر کی جانب اشارہ کرتا ہے۔دوسری طرف، حقیقت یہ بھی ہے کہ حکومت نے معاملے کو دبانے کی بجائے ایس آئی ٹی تشکیل دے کر احتساب کا راستہ اختیار کیا، جو قابلِ تعریف ہے۔ اگر تحقیقات شفاف اور غیر جانبدار رہیں اور قصورواروں کو سخت سزا ملے تو یہ نظام کے اندر اصلاح کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
بہر حال رام مندر کے لئے مستقبل میں سخت گائیڈ لائنز، ڈیجیٹل ٹرانسپیرنسی، آزاد آڈٹ، ریئل ٹائم مانیٹرنگ اور بیرونی نگرانی کے نظام کی ضرورت ہے تاکہ آستھا کا مزید استحصال نہ ہو۔ عوام کا چندہ امانت ہے، اس کی حفاظت ہر مذہبی ادارے کی ذمہ داری ہے۔یہ واقعہ ہمیں یہ باور کراتا ہے کہ طاقت، عقیدت اور دولت کے امتزاج میں احتساب ناگزیر ہے۔ اگر رام مندر کے احاطہ کو آلودگی سے محفوظ رکھنا ہے تو شفافیت اور جوابدہی ہی واحد راستہ ہے۔ ویسے ایس آئی ٹی کی رپورٹ ہی اب یہ فیصلہ کرے گی کہ آیا یہ صرف چند افراد کی غلطی تھی یا نیچے سے اوپر تک کے لوگوں کی منظم سازش کا نتیجہ۔ بھارت جیسے جمہوری ملک میں دھارمک اداروں کا احتساب ہی اصلی آستھا اور ترقی کی ضمانت ہو سکتا ہے۔
*****