تاثیر 21 جون ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
وزیراعظم نریندر مودی نے اوڈیشہ کے مَیوربھنج ضلع کے رائی رنگپور میں کل ایک بڑےعوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے نہ صرف 47,600 کروڑ روپے سے زائد کی ترقیاتی ا سکیموں کا سنگ بنیاد رکھا بلکہ ملک کے مشرقی حصے کو ترقی کا نیا گیٹ وے بنانے کا عزم بھی ظاہر کیا۔ یہ دورہ صرف پروجیکٹس کے افتتاح اور سنگ بنیاد تک محدود نہیں تھا بلکہ اس میں قومی اتحاد، قبائلی وقار اور علاقائی توازن کی ایک خوبصورت تصویر بھی نظر آئی۔ خاص طور پر صدر جمہوریہ دروپدی مرمو کے یوم پیدائش پر ان کے آبائی گاؤں پہاڑپور کا دورہ اس تقریب کو مزید یادگار بنا گیا۔
پی ایم مودی نے اس موقع پر صاف الفاظ میں کہا کہ کانگریس کے دورِ حکومت میں مشرقی بھارت، بشمول اوڈیشہ، پسماندگی کی علامت بنا رہا۔ وسائل کے باوجود ترقی کی رفتار سست رہی اور عوام بنیادی سہولیات سے محروم رہے۔ اس کے برعکس، موجودہ حکومت اپنی ’’پورودیہ‘‘ پالیسی کے توسط سے مشرقی ریاستوں کو قومی ترقی کی مین اسٹریم میں لانے کے لئے پر عزم ہے۔ اوڈیشہ میں گزشتہ دو سالوں میں بی جے پی حکومت کے تحت تقریباً 20 لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی تجاویز کا موصول ہونا اس تبدیلی کا واضح ثبوت ہے۔
واضح ہو کہ 7,600 کروڑ روپے کی ان پراجیکٹس میں روڈ، ریل، بجلی، آبپاشی اور صنعتی انفراسٹرکچر کی بڑی ا سکیمیں شامل ہیں۔مانا جا رہا ہے کہ ان سے نہ صرف مقامی سطح پر لاکھوں روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے بلکہ اوڈیشہ کے معدنی اور قدرتی وسائل کو جدید صنعتوں میں تبدیل کرنے کا راستہ بھی ہموار ہوگا۔پارٹی سے وابستہ رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ڈبل انجن حکومت کی کارکردگی کا فائدہ یہ ہے کہ مرکزی اور صوبائی حکومتیں ہم آہنگی سے کام کر رہی ہیں، جس سے عام آدمی تک ا سکیمیں براہ راست پہنچ رہی ہیں۔
ظاہر ہے ،اس دورے کا سب سے جذباتی پہلو صدرجمہوریہ دروپدی مرمو سے جڑا تھا۔ وزیراعظم نے انہیں اوڈیشہ کی بیٹی قرار دیتے ہوئے کہا کہ آج ایک قبائلی خاتون ملک کے سب سے اعلیٰ عہدے پر فائز ہیں، یہ پورے ملک کے لئے فخر کی بات ہے۔ پہاڑپور میں ان کے آبائی گاؤں کا دورہ، بچوں کے اسکول کا معائنہ اور ان کے ساتھ گزارے گئے لمحات قومی قیادت اور عوام کے درمیان جذباتی رشتے کی مثال پیش کرتے ہوئے نظر آئے تھے۔’’ پی ایم جن من ابھیان‘‘ کو صدر صاحبہ کے مشوروں کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے پی ایم مودی نے کہا کہ یہ سب سے پسماندہ قبائلی برادریوں تک رسائی کا پروگرام ہے۔ ایک طرف 500 ایک لویہ ماڈل سکولز قائم کیے جا رہے ہیں تو دوسری طرف صحت، تعلیم اور روزگار کے ذریعے ان برادریوں کو مرکزی دھارے میں لایا جا رہا ہے۔ظاہر ہے، یہ دورہ ایسےقت ہو اہے جب اوڈیشہ پچھلے ایک ہفتے سے’’ راجا پرو‘‘ اور ’’رتھ یاترا ‘‘ جیسے تہواروں کے جوش و خروش میں ڈوبا ہوا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ترقی اور لوک تہوار ایک ساتھ چل رہے ہیں، جو اوڈیشہ کی نئی شناخت کا مظہرہیں۔
سیاسی مبصرین کا بھی یہ ماننا ہے کہ یہ ترقیاتی اقدامات خوش آئند ہیں، مگر ان کے مستقل نتائج، شفاف عملدرآمد اور ماحولیاتی تحفظ بھی اہم ہیں۔ اوڈیشہ جیسی ریاستوں میں معدنی ترقی کے ساتھ قبائلی حقوق اور جنگلات کے تحفظ کا توازن برقرار رکھنا حکومت کے لئےایک بڑا امتحان ہے۔ حالانکہ کہ اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں ہے کہ قومی ترقی کے لئے تمام ریاستوں پر یکساں توجہ ضروری ہے۔
بہر حال وزیراعظم نریندر مودی کا یہ دورہ صرف ایک ریاستی دورہ نہیں بلکہ مشرقی بھارت کو قومی ترقی کے نقشے پر لانے کی ایک ٹھوس حکمت عملی کا نتیجہ ہے۔ بی جے پی حکومت ا سے ’’ترقی کا گیٹ وے‘‘ بنانے ضد پر اڑی ہوئی ہے۔ اگر یہ رفتار برقرار رہی تو اوڈیشہ نہ صرف خود ترقی کرے گا بلکہ پورے مشرقی علاقے کو ترقی کی نئی بلندیوں تک لے جائے گا۔یعنی یہ دورہ قومی یکجہتی، قبائلی وقار اور تیز ترقی کا پیغامبر ہے۔ وزیراعظم کا وعدہ اور عمل دونوں قابلِ تحسین ہیں۔ اوڈیشہ کے عوام اور خصوصاً نوجوان نسل کو اس نئی صبح کا فائدہ اٹھانا چاہیے اور قومی ترقی میں اپنا کردار پوری ایمانداری کے ساتھ ادا کرنا چاہئے۔ظاہر ہے، بھارت کی ترقی تب ہی مکمل ہوگی جب مشرق، مغرب، شمال اور جنوب سب ایک ساتھ آگے بڑھیں گے۔
*******

