!تعلیم کے ستارے کو بجھانے کی کوشش

تاثیر 07 جون ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

بہار کی راجدھانی پٹنہ کے تعلیمی حلقے میں خان گلوبل ا سٹڈیز(کے جی ایس) اور گیان بندو کوچنگ کے درمیان پیداشدہ تنازعہ اب ایک بڑی بحث کا موضوع بن چکا ہے۔ فیصل خان، جنہیں پورے بھارت کے لاکھوں طلبہ اور نوجوان ’’خان سر‘‘ کے پیارے نام سے جانتے ہیں، اور’ رکشا بندھن ‘ جیسے مقدس تہوار کے موقع پر جن کی کلائی میں ہزاروں طالبات پچھلے کئی برسوں سے راکھی باندھتی آ رہی ہیں ، پر سنگین الزامات لگائے گئے ہیں۔ ان کے خلاف نامزد ایف آئی آر میں قتل کے اقدام اور آرمز ایکٹ کی دفعات لگائی گئی ہیں۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ یہ معاملہ دو کوچنگ سنٹرز کے درمیان مقابلے سے جڑا ہے، جس کو چند شر پسند عناصر اپنے ایک خاص ایجنڈا کے طور پر طول دینا چاہتے ہیں۔ کچھ مبصرین اس معاملے کو نیٹ، ایس ایس سی اور دیگر مقابلہ جاتی امتحانات کے سوالات لیک ہونے کے خلاف اٹھنے والی آواز کو دبانے کی ایک منظم سازش کے طور پر بھی دیکھ رہے ہیں۔
یہ بات پوری دنیا جانتی ہے کہ خان سر نے محدود وسائل سے نہ صرف اپنے طلبہ کو خواب دیکھنے کی ہمت دی ہے بلکہ بہار سمیت پورے ملک میں غریب اور مڈل کلاس کے نوجوانوں کو سرکاری نوکریوں کی تیاری کا موثر ذریعہ فراہم کیا ہے۔ ان کی محنت سے ہزاروں نوجوان یو پی ایس سی، بی پی ایس سی، اسٹاف سیلکشن کمیشن، ریلوے ،بہار پولیس اور دیگر مقابلہ جاتی امتحانات میں کامیاب ہوکر اپنے غریب والدین کا سہارا بنے ہیں ۔خان سر کی مقبولیت پٹنہ ، دہلی اور کوٹہ کےمہنگے کوچنگ انسٹی چیوٹ اور ہاسپیٹل چلانے والے لوگوں کے ساتھ ساتھ گودی میڈیا کو نہ جانے کب سے کھٹکتی رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں ’’فیصل خان‘‘ کہہ کر پورے تنازعہ کو ہندو-مسلم رنگ دینے کی مذموم کوشش کی جا رہی ہے۔ بھاڑے کے کچھ یو ٹیوبرس بھی میدان میں اچھلتے کودتے نظر آ رہے ہیں۔
واقعہ 2 جون کی رات کا ہے، جب خان سر کے انسٹی ٹیوٹ پر مبینہ طور پر حملہ ہوا، توڑ پھوڑ کی گئی اور پتھراؤ کیا گیا۔ الٹے ہی ان  خان سر کے خلاف پولس نے ہی مقامی تھانے میں نامزد ایف آئی آر درج کرائی ہے۔ اس معاملے میںان کے دو سیکیورٹی گارڈز نے گرفتاری کے بعد بیان دیا  ہے کہ انہوں نے اپنے لائسنسڈ اسلحہ سے خود دفاع میں ہوائی فائرنگ کی تھی۔ اس کے باوجود گودی میڈیا اور کچھ بھاڑے کے لوگ خان سر کی گرفتاری کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حالانکہ الہ آباد ہائی کورٹ کے ایک اہم فیصلہ (2024)  اور سپریم کورٹ میں دائر ایک مقدمہ( 2010 ) کے فیصلے کے مطابق، لائسنسڈ اسلحہ سے حقیقی خود دفاع میں فائرنگ آرمس ایکٹ کی خلاف ورزی نہیں سمجھی جاتی۔ اگر خطرہ حقیقی تھا تو ہوائی فائرنگ بھی جائز قرار دی جا سکتی ہے۔ ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ پیشگی ضمانت (انٹیسی پیٹری بیل) ملنے میں خان سرکو کوئی دقت نہیں ہونی چاہیے۔
واضح ہو کہ اس تنازعہ میں گیان بندو کوچنگ انسٹی چیوٹ کے سر براہ روشن آنند سمیت ان کے ساتھیوں کی بھی گرفتاری ہوئی ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ معاملہ دو طرفہ ہے۔ البتہ خان سر کی خدمات سے جلنے والے عناصر انہیں آرام سے کام کرنے نہیں دینا چاہتے ہیں۔جبکہ طلبہ کی بڑی تعداد خان سر کے ساتھ کھڑ ی نظر آرہی ہے ۔اور نہ صرف ان کی حمایت کر رہی ہے بلکہ نیشنل سطح کے امتحانات میں شفافیت لانے کا مسلسل مطالبہ بھی کر رہی ہے۔اس کے علاوہ ملک کے 80 فیصد لوگ، جن میں قانون کے ماہرین بھی شامل ہیں، اسے دو کوچنگ انسٹی چیوٹس کے درمیان سبقتی تنازعہ سے زیادہ ایک بڑی سازش سمجھتے ہیں۔ امتحانات کے پرچوںکے لیک جیسے سنگین مسائل کو ڈائیورزن دینے کے لئے یہ ڈرامہ رچایا گیا ہے۔ گودی میڈیا اسے فرقہ وارانہ رنگ دے کر مذہبی منافرت کی آگ بھڑکا رہا ہے، جو ملک کے لیے نقصان دہ ہے۔
بہر حال دنیا یہ تسلیم کر رہی ہے کہ خان سر کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ انہوں نے لاکھوں نوجوانوں کو امید دی ہے، تعلیم کے ذریعے خودمختاری سکھائی ہے اور غریب بچوں کو مستقبل کی طرف دیکھنے کی ہمت بخشی ہے۔ آج جب ان پر حملہ ہو رہا ہے تو یہ صرف ایک استاد پر نہیں بلکہ تعلیم کے لئے اٹھنے والی ہر آواز پر حملہ ہے۔چنانچہ اب یہ خان سر سے فائدہ اٹھانے والے طلبہ، انصاف پسند شہریوں، دانشوروں اور روشن خیال لوگوں پر منحصر ہے کہ وہ اس سازش کا مقابلہ کیسے کرتے ہیں۔یہ دیکھنا سب کی ذمہ داری ہے کہ مذہبی منافرت کی آگ بھڑکانے والوں کی سازش کبھی کامیاب نہیں ہو۔ خان سر جیسے محنتی ، مخلص اور غریب دوست اساتذہ کو ہر طرح سے تحفظ ملنا چاہئے تاکہ تعلیم کا چراغ ہمیشہ روشن رہے اور غریب نوجوانوں کے خواب پورے ہوتے رہیں۔
 *******************