تاثیر 25 جون ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا انتباہ
کولکاتا، 25/ جون (محمد نعیم) تاراتلہ میں زیرِ تعمیر گودام کے منہدم ہونے کے المناک حادثے میں 9 افراد کی ہلاکت اور 20 سے زائد افراد کے زخمی ہونے کے بعد ریاستی حکومت نے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان کیا ہے۔
جمعرات کو اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ شوبھندو ادھیکاری نے انکشاف کیا کہ مذکورہ گودام کے تعمیراتی منصوبے کو 17 جنوری کو کولکاتا میونسپل کارپوریشن کی منظوری حاصل ہوئی تھی، جس پر اُس وقت کے میئر فرہاد حکیم کے دستخط بھی موجود ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ منصوبے کی منظوری میں متعلقہ انجینئروں کے دستخط بھی شامل ہیں اور اس معاملے میں کسی کو بھی بخشا نہیں جائے گا۔
انہوں نے الزام لگایا کہ بلڈنگ پلان کی منظوری کے عمل میں بڑے پیمانے پر بدعنوانی ہوئی ہے اور غیر قانونی تعمیرات کی وجہ سے کولکاتا کو ’’سٹی آف جوائے‘‘ سے ’’موت کی نگری‘‘ بنا دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق اس حادثے سے قبل بھی کئی واقعات پیش آ چکے تھے، مگر متعلقہ حکام نے ان سے کوئی سبق حاصل نہیں کیا۔
وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ منصوبے پر سب اسسٹنٹ انجینئر امینور شیخ، اسسٹنٹ انجینئر نرمالیندو سرکار اور ایگزیکٹو انجینئر رنجن داس کے دستخط بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حادثے کے سلسلے میں اب تک پانچ افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے اور مزید ذمہ داروں کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔
شوبھندو ادھیکاری نے یہ بھی الزام لگایا کہ کولکاتا میونسپل کارپوریشن نے ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے جدید آلات خریدنے میں غفلت برتی، جس کے باعث فوج اور بہار رجمنٹ کی مدد طلب کرنی پڑی۔ انہوں نے بتایا کہ فوجی دستوں نے جدید مشینری کے ساتھ پہنچ کر امدادی اور بچاؤ کارروائیوں میں حصہ لیا۔
وزیر اعلیٰ نے اسمبلی میں یہ دعویٰ بھی کیا کہ کولکاتا میونسپل کارپوریشن میں بلڈنگ پلان کی منظوری کے عمل میں ایک شخص ’’کالی‘‘ کا اثر و رسوخ تھا اور اس کے بغیر کوئی منصوبہ منظور نہیں ہوتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں ایف آئی آر درج ہو چکی ہے اور تحقیقات جاری ہیں۔
حادثے کے بعد امدادی کارروائیوں میں حصہ لینے والی فوج، این ڈی آر ایف، کولکاتا پولیس، سول ڈیفنس اور دیگر ریسکیو ٹیموں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے متاثرہ خاندانوں کے لیے مالی امداد کا بھی اعلان کیا۔

