تاثیر 17 جون ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
بھارت کی سیاست میں ایک بار پھر دلچسپ اور متنازع موڑ آگیا ہے۔ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کے مبینہ 20 لوک سبھا ارکان نے نیشنلسٹ سٹیزنز پارٹی آف انڈیا (این سی پی آئی) کے ساتھ اپنے گروپ کے انضمام کا اعلان کر دیا ہے۔ ایک ایسا سیاسی گروپ، جو 2023 میں رجسٹرڈ ہوا، تریپورا کے انتخابات میں ناکام رہا، صرف ایک لاکھ روپے چندہ جمع کر سکا اور جس کا وجود زیادہ تر مغربی بنگال کے ایک چھوٹے سے دفتر تک محدود تھا، اچانک قومی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ کاکولی گھوش دستیدار سمیت ان ارکان نے لوک سبھا اسپیکر اوم برلا سے ملاقات کے بعد یہ قدم اٹھایا ہے۔ظاہر ہے، یہ واقعہ نہ صرف ٹی ایم سی کی اندرونی سیاست بلکہ بھار ت کے جمہوری نظام کے حوالے سے ایک بڑا سوال بن کر ملک کے سامنے آیا ہے۔
این سی پی آئی کا پس منظر بہت معمولی ہے۔ 20 جنوری، 2023 کو رجسٹرڈ اس پارٹی نےتریپورا میں اپنے تین امیدوار کھڑےکئے تھے، مگر کوئی کامیابی نہیں ملی تھی۔ اس کے فیس بک فالوورز صرف 72 ہیں اور اس کا دفتر ہاوڑا کے ایک دور افتادہ گاؤں میں ایک معمولی سی عمارت میں ہے۔ اب اچانک 20 مبینہ ارکان، یعنی ٹی ایم سی کے کل 28 میں سے دو تہائی سے زیادہ، اس کے ساتھ مل کر این ڈی اے کے ساتھ کام کرنے کا دعویٰ کر رہے ہیں۔ یہ دعویٰ دل بدل قانون (اینٹی ڈیفیکشن لا) سے بچنے کی حکمت عملی لگتا ہے، جو 1985 کے 52ویں ترمیم کے تحت نافذ ہے۔
آئین کے ماہرین کا کہنا ہےکہ یہ قانون سادہ مگر سخت ہے۔ ارکان جو ٹی ایم سی کے ٹکٹ پر منتخب ہوئے، ان پر اصل پارٹی کی وفاداری کی ذمہ داری ہے۔ صرف متعلقہ اپنے گروپ خود کو’’اصل پارٹی‘‘ قرار دے کر وہ کسی دوسری پارٹی میں اپنے گروپ کو ضم نہیں کر سکتے ہیں۔انضمام کا فیصلہ اصل سیاسی پارٹی کو کرنا ہوتا ہے، نہ کہ بغاوت کرنے والے ارکان کے گروپ کو۔ دو تہائی کی شرط تب لاگو ہوتی ہے،جب اصل پارٹی کا باقاعدہ انضمام ہو۔ اگر الیکشن کمیشن بغاوت کرنے والوں کو ’’اصل ٹی ایم سی” مان لے تو صورتحال بدل سکتی ہے، مگر اس سے پہلے این سی پی آئی میں انضمام کا پہلو قانونی طور پر کمزور ہے۔
بلا شبہ یہ معاملہ صرف قانونی نہیں بلکہ سیاسی اور اخلاقی بھی ہے۔ ایک طرف ٹی ایم سی قیادت، خاص طور پر ممتا بنرجی کی قریبی رہ چکی کاکولی دستیدار کی بغاوت، پارٹی میں اندرونی ناراضگی کی نشاندہی کرتی ہے۔ دوسری طرف، ایک کمزور اور ناقابل توجہ پارٹی کے ساتھ اچانک انضمام کا اعلان بھارت کی سیاست میں’’ہارس ٹریڈنگ‘‘ کی نئی شکل لگتا ہے۔ حالیہ برسوں میں شیو سینا، جے ڈی یو اور دیگر علاقائی پارٹیوں کی تقسیم و کمزوری نے’’کانگریس مکت بھارت‘‘ کے بعد’’اپوزیشن مکت بھارت‘‘ کی طرف اشارہ کیا ہے۔بعض سیاسی تجزیہ کار اس صورتحال کو علاقائی طاقتوں کے زوال اور مرکزیت پسندی کی طرف بڑھتے رجحان سے جوڑ کر دیکھ رہے ہیں۔
جمہوری اقدار کے تناظر میں بھی یہ واقعہ تشویش ناک ہے۔ دل بدل قانون کا مقصد ہی منتخب نمائندوں کی وفاداری اور سیاسی استحکام کو یقینی بنانا تھا۔ اگر ارکان آزادانہ طور پر پارٹی چھوڑ کر نئی جگہ تلاش کرنے لگیں تو ان تمام ووٹرز کا اعتماد ٹوٹتا لازمی ہے، جنھوں نے ایک خاص چناوی نشان (ٹوئن فلاؤرز) پر ووٹ دیکر انھیں کامیاب بنایا ہے۔ انتخابی کمیشن اور اسپیکر کی ذمہ داری بہت بڑی ہے۔ انہیں شفاف، غیر جانبدار اور آئینی اصولوں کے مطابق فیصلہ کرنا ہوگا۔ بغیر پختہ فہرست کے’’20 ارکان‘‘ کا دعویٰ اور این سی پی آئی کی کمزور حیثیت،پُر شور خاموشی کے تناظر میں یہ سوالات اٹھتے ہی رہیں گے کہ کیا واقعی یہ رضاکارانہ قدم ہے یا کسی دباؤ اور خوف کا نتیجہ ؟
بھارتی جمہوریت کی طاقت اس کے تنوع، علاقائی پارٹیوں اور مضبوط اپوزیشن میں ہے۔ اگر علاقائی پارٹیاں کمزور ہوتی رہیں تو قومی سطح پر یک طرفہ سیاست کا خطرہ بڑھنا فطری ہے۔ چنانچہ ضروری ہے کہ آئینی ادارے اپنی ساکھ برقرار رکھیں اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنائیں۔ بغاوت کرنے والوں کو اپنے حقوق کے تحفظ کا حق ہے، مگر اپنے حقوق کی حفاظت آئین اور قانون کے دائرے میں رہ کر ہی کی جا سکتی ہے۔ ویسے یہ طے ہے کہ بھارت جیسے عظیم کثیر المذاہب اور کثیر الثقافتی ملک میں سیاسی استحکام اور اخلاقی سیاست ہی جمہوریت کو مضبوط بنائے گی۔ چنانچہ یہ واقعہ نہ صرف ٹی ایم سی بلکہ ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کے لئے سبق ہے کہ اندرونی جمہوریت، شفافیت اور بہتر کارکردگی کے بغیر وفاداری حاصل کرنا مشکل ہے۔لہٰذا، یقین ہے کہ ا لیکشن کمیشن اور سپریم کورٹ کے ذریعہ اس معاملے میں آئینی اصولوں کی پاسداری ضرور کی جائے گی تاکہ بھارت کی سیاست کے معیار و وقار میں اضافے کے ساتھ اسے مزید پختگی حاصل ہو سکے۔
***********

