تاثیر 20 جون ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
محمد عبداللہ اور ادئے نرائن چودھری کی قیادت میں مقتول کے اہل خانہ سے ایک وفد نے کی ملاقات
پٹنہ(پریس ریلیز)بہار کی جانی مانی شخصیتیں اشفاق رحمن اور اخترالایمان کی سرپرستی اور سابق ڈی آئ جی محمد عبداللہ کی صدارت میں چلنے والا فورم فور پیس اینڈ جسٹس کا کارواں بہار کے مظلوم کنبوں کی داد رسی کے لئے گاؤں -گاؤں گھوم رہا ہے ۔گزشتہ دنوں سیوان ضلع کے بر ہڑیا اسمبلی حلقہ کے شیو راج پور میں شہزاد کی وحشیانہ لنچنگ کا بہیمانہ معاملہ سامنے آیا ۔بقرعید کے تیسرے دن پڑوس کے ہی دبنگ لوگوں نے شہزاد کو بے رحمی سے مار ڈالا اور جائے وقوع پر موجود پولس اہلکار مسکراتے رہے ۔یہ واقعہ فاربس گنج کی یاد دلاتا ہے ۔جہاں پولس مرنے کے بعد بھی مسلم لاش کو جوتے سے روندتی رہی تھی۔ٹھیک اسی طرح شہزاد کی روح نکلنے کے بعد بھی قاتل سینا ،چہرا پر جوتا سے روندتے رہے ۔فورم فورم پیس اینڈ جسٹس کا ایک وفد جمعرات تپتی دوپہر میں مقتول شہزاد کے والد قیام الدین شاہ سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی اور ہر ممکن قانونی مدد کا یقین دلایا ۔
وفد میں شامل سابق اسپیکر ادئے نرائن چودھری نے کہا فورم کا قانونی مدد مفت ہوگا۔ساتھ ہی انہوں نے تین رکنی ایک مقامی وفد فوری بنا کر ضلع مجسٹریٹ سے مل کر انتظامی مالی مدد دلانے کی پہل کی ہے۔وفد میں ارون کمار گپتا،انوارالحق ،بپن کشواہا کو کہا گیا کہ آج کل میں ڈی ایم سے ملاقات کر مقتول کے کنبہ کو مالی مدد دلانے کی کوشش کریں ۔فورم قانونی مدد کر قاتلوں کو کیفر کردار تک پہچانے کی ہر کوشش کرے گا۔مآب لنچنگ مہذب سماج میں کلنک ہے۔مآب لنچنگ نفرت کی علامت ہے۔کسی بھی شخص کو یرغمال بنا کر اسے بے دردی سے مارنا مہذب سماج کے لئے انتہائی شرمناک اور تشویشناک ہے۔اس غیر انسانی واردات کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے ۔
فورم کے صدر محمد عبداللہ نے متوفی کے والد قیام الدین شاہ اور اہلیہ مبینہ خاتو ن سے واردات کی تفصیلی جانکاری لی اور پولس – انتظامیہ کی جانب سے کیے گئے اقدامات کے بارے میں دریافت کی اور کیس کی پیش رفت کا جائزہ لیا ۔انہوں نے کہا کہ معاشرے کے تمام طبقات کو اس نفرت کے خلافی مثبت کردار ادا کرنا چاہیے، ورنہ یہ رحجان ہندوستان کی مشترکہ ثقافت اور سماجی ثقافت کو شدید نقصان پہنچائے گا ۔ انہوں نے مظلوم اہل خانہ کو یقین دلایا کہ انصاف صرف مجرموں کی گرفتاری تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ بلکہ متاثرہ خاندان کی بازآبادکاری اور بچے کے مستقبل کی ذمہ داری تک فریضہ ادا کرنا بھی زندہ قوم کی جواب دہی ہے۔
پیس اینڈ جسٹس کا قیام اسی مقصد سے کیا گیا ہے۔سماج میں جہاں بھی نا انصافی ہو گی پیس اینڈ جسٹس انصاف دلانے کے لئے وہاں موجود رہے گا۔نوادہ،مظفر پور کے سریا اور سیوان کے شیو راج پور میں فورم کا وفد پہنچ چکا ہے ۔کئ معاملوں میں فورم کو بڑی قانونی جیت بھی ملی ہے۔وفد میں رانا رنجیت ،جوہر عبداللہ ،شمع ایڈوکیٹ ،بشری ،مشیر عالم ،سراج انور ،ممتاز عالم ،شبیر عالم و دیگر شامل تھے۔جبکہ مقامی سطح پر بپن کشواہا ،انوارالحق اور ارون کمار گپتا موجود رہے۔

