تاثیر 14 جون ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
عثمان آباد ، 13 جون:فصل کی کٹائی کے بعد کھیتوں میں باقی رہ جانے والی ڈنٹھل، بھوسہ، تنکے، خشک باقیات اور دیگر زرعی فضلے کو اب نئی اہمیت حاصل ہونے لگی ہے۔ کسانوں کے لیے اکثر بوجھ سمجھے جانے والے اور جلا دیے جانے والے اس فضلے سے مستقبل میں آمدنی کا مضبوط ذریعہ پیدا ہونے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔ اسی سلسلے میں زرعی فضلے سے تیار کردہ تجدیدی ڈیزل کو چار پہیہ گاڑی میں استعمال کرتے ہوئے کامیاب آزمائشی ڈرائیونگ کی گئی ہے۔ اس نئی ٹیکنالوجی کے ذریعے ملک کا کسان صرف ’’انّ داتا‘‘ ہی نہیں بلکہ ’’توانائی داتا‘‘ اور زرمبادلہ کے تحفظ میں اہم کردار ادا کرنے والا بھی بن سکتا ہے۔
ملک کے وزیر اعظم نریندر مودی کسانوں کی آمدنی میں اضافہ، قدر افزائی پر مبنی زراعت کے فروغ اور ملک کو توانائی کے شعبے میں خود کفیل بنانے کے عزم کا اظہار کر چکے ہیں۔ زرعی باقیات سے تیار ہونے والا تجدیدی ڈیزل اسی وڑن کا ایک اہم حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں مہاراشٹر کی ’’گرین جیولس‘‘ کمپنی کے اشتراک سے کام جاری ہے۔ ابتدائی تجربات سے معلوم ہوا ہے کہ کھیتوں کے فضلے سے تیار کردہ تجدیدی ڈیزل کارکردگی کے اعتبار سے روایتی ڈیزل جتنا ہی مؤثر ہے۔

