امریکہ اور ایران کے درمیان 108 دن تک  چلی محازآرائی، اب سمجھوتے کے آثار

تاثیر 16 جون ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

تہران/واشنگٹن، 15 جون: امریکہ اور ایران پورے 108 دن تک کشمکش میں الجھے رہے۔ اس کی ایران کو بہت بڑی قیمت چکانی پڑی۔ 28 فروری سے شروع ہونے والے اس تنازعہ کو ختم کرنے کا اعلان 15 جون دونوں فریقوں نے کیا۔ دونوں کے درمیان اہم رابطہ کار پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے پیر کے روز اعلان کیا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ ختم کرنے کے لیے ایک معاہدہ حتمی شکل اختیار کر چکا ہے۔ امن معاہدے پر 19 جون کو سوئٹزرلینڈ میں دستخط کیے جائیں گے۔
دستخط ہو جائیں گے… خونریزی بھی رک جائے گی۔ آبنائے ہرمز بھی کھل جائے گی، لیکن اس جنگ میں جو خون بہا، اس کا کیا؟ اس جنگ سے متعلق ای-اطلاعات (اخباری تراشوں) کی کچھ سرخیاںحیرت انگیز ہیں۔ سلسلہ وار ان کا بیان کبھی انتہائی خوفناک، کبھی امید افزا ہے۔ اس تنازعہ کا آغاز بنیادی طور پر 28 فروری کو ہوتا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل مشترکہ طور پر ایران پر حملہ کرتے ہیں۔ اس حملے میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور کئی اعلیٰ فوجی کمانڈر مارے جاتے ہیں۔
اس کے بعد مغربی ایشیا میں کہرام مچ جاتا ہے۔ غم میں ڈوبا ایران اگلے ہی دن امریکہ کے اتحادی ممالک پر میزائل حملے کرتا ہے۔ اس سے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) میں تین افراد کی موت ہو جاتی ہے، جن میں ایک بھارتی شہری بھی شامل ہوتا ہے۔ تنازعہ مزید بڑھ جاتا ہے۔ 2 مارچ کو کویت غلطی سے امریکہ کے تین جنگی طیارے مار گراتا ہے۔ غصے میں آیا ہوا امریکہ دو دن بعد مزید جارح ہو جاتا ہے۔ 4 مارچ کو بحرِ ہند میں امریکی بحریہ ایرانی بحری جہاز آئی آر آئی ایس ڈینا کو ٹارپیڈو حملے میں ڈبو دیتی ہے۔