اقوام متحدہ کے پاس ساکھ بحال کرنے کا موقع

تاثیر 09 جون ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور جنگ کی بھڑکتی آگ نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی امن کے لئے سنگین خطرہ بنتی جا رہی ہے۔ ایران، اسرائیل اور غزہ کے درمیان بڑھتے ہوئے تصادم نے پوری دنیا کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ اس نازک صورتحال میں اقوام متحدہ کےسکرٹری جنرل انٹونیو گوٹیرس نے تمام فریقین سے فوری جنگ بندی اور تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے۔ ان کا واضح پیغام ہے کہ اس علاقے میں کوئی بھی ایسا قدم نہ اٹھایا جائے، جس سے حالات قابو سے باہر ہو جائیں۔ اقوام متحدہ کی جانب سے اٹھا گیا یہ قدم بر وقت بھی ہے اور عالمی برادری کے لئے ایک آئینہ بھی۔ اقوام متحدہ کا موقف بھی یہی ہے کہ تنازعے کا حل فوجی طاقت کے بجائے کثیرالجہتی سفارتکاری سے ہی ممکن ہے۔
حالانکہ اس تنازعے کی جڑیں گہری ہیں۔ غزہ میں جاری انسانی بحران، لبنان اور ایران کے ساتھ اسرائیلی تناؤ، اور خطے میں پھیلتی ہوئی غیر مستحکم صورتحال نے لاکھوں معصوم جانوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ اقوام متحدہ کا موقف بالکل درست ہے کہ اس بحران کا کوئی فوجی حل ممکن نہیں۔ صرف سفارتکاری، بات چیت اور باہمی احترام ہی اس آگ کو بجھا سکتا ہے۔ گوٹیرس کے ترجمان فرحان حق کے بیان کے مطابق، غزہ کے عام شہریوں تک بغیر رکاوٹ انسانی امداد، ادویات اور خوراک پہنچنی چاہئے۔ اسرائیل کی جانب سے انٹری پوائنٹس بند کرنے کی مخالفت بھی جائز ہے، کیونکہ اس سے انسانی المیہ مزید گہرا ہوتا ہے۔
دوسری جانب، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا حالیہ بیان انتہائی تشویش ناک ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ دو ہفتوں میں ایران پر’’مکمل فتح‘‘ حاصل کر لے گا اوراس اعتبار سے ایک نیا جوہری معاہدہ قریب ہے۔ ٹرمپ کا یہ بیان نہ صرف حقیقت سے دور ہے بلکہ خطے کو مزید غیر مستحکم کرنے والا ہے۔ ایران ایک خودمختار ملک ہے ،جس نے بار بار اپنے جوہری پروگرام کے پرامن ہونے کا اعلان کیا ہے۔ اس پر مسلسل دباؤ اور دھمکیاں علاقائی توازن کو بگاڑ رہی ہیں۔ بھارت جیسے ممالک، جو ایران کے ساتھ تاریخی، تہذیبی اور اقتصادی تعلقات (جیسے چابہار بندرگاہ کا منصوبہ) رکھتے ہیں، اس بات پر زور دیتے ہیں کہ تناؤ کے بجائے بات چیت کا راستہ اختیار کیا جائے۔ بھارت ہمیشہ سے علاقائی مسائل میں متوازن اور امن پسند موقف اپناتا آیا ہے۔
اس صورتحال میں اقوام متحدہ کا کردار فیصلہ کن ہونا چاہئے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ماضی میں وہ اکثر بڑی طاقتوں کے سامنے بے بس نظر آتا رہا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ وہ صرف اپیلوں تک محدود نہ رہے بلکہ عملی اقدامات بھی کرے۔ سلامتی کونسل کو فوری اجلاس بلانا چاہئے، تمام فریقین کو ایک میز پر بٹھانا چاہئے اور ایک جامع امن منصوبہ پیش کرنا چاہئے۔ غزہ میں فوری سیز فائر، انسانی امداد کی غیر مشروط رسائی، اور بین الاقوامی قوانین کے تحت بحری آزادی کا احترام اس منصوبے کے کلیدی عناصر ہو سکتے ہیں۔
ایران کی جانب سے بھی صبر اور حکمت کا مظاہرہ دیکھنے کو ملا ہے۔ وہ بار بار کہہ چکا ہے کہ وہ جنگ نہیں چاہتا، لیکن اپنے حق دفاع کو بھی ترک نہیں کرے گا۔ یہ موقف منطقی ہے۔ کوئی بھی خودمختار ملک اپنی سرزمین اور عوام کی حفاظت کا حق رکھتا ہے۔ اسرائیل کو بھی سمجھنا چاہئے کہ مسلسل جارحیت سے امن نہیں آئے گا بلکہ نفرت اور مزید خونریزی بڑھے گی۔بھارت کا نقطہ نظر یہاں بہت اہم ہے۔ بھارت نہ صرف اسرائیل کے ساتھ دفاعی اور ٹیکنالوجی تعاون رکھتا ہے بلکہ ایران کے ساتھ توانائی اور رابطے کے شعبوں میں بھی گہرے تعلقات برقرار رکھے ہوئے ہے۔ بھارت کا پیغام واضح ہے۔بھارت کا ماننا ہے کہ بغیر کسی فریق کو نشانہ بنائے اس خطے میں استحکام ممکن ہے۔چنانچہ  بھارت اقوام متحدہ کی کوششوں کی مکمل حمایت اور تمام فریقین سے تحمل کی اپیل کرتا رہاہے۔ایسے میںعالمی برادری کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ جنگ کی آگ کو بھڑکانے والوں کے ساتھ اسے کھڑا ہونا ہے یا امن کی آوازبننا ہے۔ ابھی اقوام متحدہ کے پاس اپنی ساکھ بحال کرنے کا بہترین موقع ہے۔ اگر وہ مؤثر ثابت ہوا تو اس سے صرف مشرق وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کو فائدہ ہوگا۔ لیکن اگر وہ صرف بیانات تک محدود رہا تو اس کا وجود ہی مشکوک ہو جائے گا۔
بہر حال اس وقت ضرورت ہے کہ تمام متعلقہ ممالک، بشمول امریکہ، چین، روس اور یورپی یونین، اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر مل کر ایک پائیدار حل نکالیں۔ ایران کے جوہری پروگرام پر جامع بات چیت، فلسطینی مسئلے کا منصفانہ حل، اور علاقائی خودمختاری کا احترام ہی اس بحران کا مستقل علاج ہو سکتا ہے۔آخر میں، گوٹیرس کی اپیل کو صرف الفاظ نہیں سمجھا جانا چاہئے بلکہ اسے مؤثر عمل کا ذریعہ بنایا جانا چاہئے۔ جنگ کی آگ صرف معصوموں کا خون بہاتی ہے، امن ہی ترقی اور خوشحالی کا ضامن ہے۔ بھارت سمیت ذمہ دار اقوام کو اقوام متحدہ کو مضبوط بنانے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہئے تاکہ مشرق وسطیٰ جلد از جلد امن کی طرف لوٹ سکے۔
***********