تاثیر 17 جون ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
ممبئی، 16 جون: بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ریاستی چیف ترجمان نوناتھ بان نے دعویٰ کیا ہے کہ ادھو ٹھاکرے اور سنجے راوت کے ’’شیو بندھن‘‘ میں اب ہندوتوا رہنما بالاصاحب ٹھاکرے کے نظریات کی وہ طاقت باقی نہیں رہی جو کبھی شیوسینا کی شناخت ہوا کرتی تھی۔ انہوں نے کہا کہ صرف قسمیں کھانے یا شیو بندھن باندھنے سے اراکینِ اسمبلی اور اراکینِ پارلیمان جماعت میں برقرار نہیں رہتے بلکہ اس کے لیے محبت، اپنائیت اور انسانیت کے رشتے ضروری ہوتے ہیں۔
منگل کو بی جے پی کے ریاستی دفتر میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نوناتھ بان نے کہا کہ ان کے مطابق ادھو ٹھاکرے کے پاس اب نہ کارکنوں کے لیے محبت باقی رہی ہے، نہ اپنائیت اور نہ ہی انسانیت۔ اسی وجہ سے ادھو ٹھاکرے گروپ کے کئی اراکینِ اسمبلی اور اراکینِ پارلیمان جماعت چھوڑ کر ایسے سیاسی ماحول کی تلاش کرتے ہیں جہاں انہیں عزت اور تعلق کا احساس ہو۔
انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ ادھو ٹھاکرے کو عوامی رہنما اور ہر ایک سے ملاقات کرنے والا شخص قرار دینا اس دہائی کا سب سے بڑا مذاق ہے۔ ان کے بقول ادھو ٹھاکرے اپنے ہی اراکینِ اسمبلی اور اراکینِ پارلیمان کو ’’ماتوشری‘‘ کے دروازے سے واپس بھیج دیتے ہیں، جبکہ سنجے راوت کو بھی کئی مرتبہ وہاں داخلے کی اجازت نہیں ملتی۔

