عبدالغفار انصاری کی تعلیمی خدمات سنہری حروف میں یاد رکھی جائیں گی، الوداعی تقریب میں مقررین کا خراجِ تحسین

تاثیر 1 جولائی ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

حاجی پور/پاتے پور (شرافت خان): ضلع ویشالی کے پاتے پور بلاک کے تحت واقع اپ گریڈڈ مڈل اسکول، سِمروارا میں گزشتہ 13 برسوں سے بحیثیت ہیڈ ماسٹر و ڈرائنگ اینڈ ڈسبرسنگ آفیسر (DDO) اپنی خدمات انجام دینے والے عبدالغفار انصاری کی سبکدوشی کے موقع پر ایک باوقار الوداعی و اعزازی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب میں محکمۂ تعلیم کے افسران، عوامی نمائندوں، اساتذہ، سماجی شخصیات اور معزز شہریوں نے شرکت کرکے ان کی طویل، دیانت دارانہ اور مثالی تعلیمی خدمات کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔ تقریب کے مہمانِ خصوصی پاتے پور ٹریڈ منڈل کے صدر و بلاک پرمکھ گنیش رائے نے اپنے خطاب میں کہا کہ ایک استاد معاشرے کا حقیقی رہنما ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عبدالغفار انصاری نے اپنے دورِ ملازمت میں نہ صرف تعلیمی معیار کو بہتر بنانے میں نمایاں کردار ادا کیا بلکہ طلبہ میں نظم و ضبط، اخلاقی اقدار اور تعلیمی شعور کو فروغ دینے میں بھی اہم خدمات انجام دیں۔ ان کی خدمات آئندہ نسل کے اساتذہ کے لیے مشعلِ راہ رہیں گی۔ مہمانِ خصوصی بلاک ایجوکیشن آفیسر ششی بھوشن پرساد سنگھ نے کہا کہ عبدالغفار انصاری نے اپنی دیانت داری، فرض شناسی اور اخلاصِ عمل سے محکمۂ تعلیم میں ایک منفرد مقام حاصل کیا ہے۔ ان کی گراں قدر خدمات کو ہمیشہ قدر کی نگاہ سے یاد رکھا جائے گا۔ اس موقع پر بی جے پی لیڈر اصغر علی، استاد وندیشور کمار ، مکھیا نمائندہ اشوک کمار رائے، ویشالی آئی ٹی آئی کے ڈائریکٹر امین اعجاز، محمد انجار، استاد کلیم، معلمہ نسرین بانو سمیت دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا۔ مقررین نے عبدالغفار انصاری کی سادہ مزاجی، خوش اخلاقی، ملنساری اور تعلیم کے تئیں ان کی بے مثال وابستگی کو سراہتے ہوئے ان کی صحت مند، خوشحال اور دراز عمر زندگی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ تقریب کے دوران مہمانوں نے عبدالغفار انصاری کو شال، گلدستہ اور یادگاری نشان پیش کرکے ان کی خدمات کا اعتراف کیا۔ اساتذہ اور حاضرین نے ان کے ساتھ وابستہ یادگار لمحات کا تذکرہ کیا، جس سے تقریب کا ماحول جذباتی ہوگیا۔ تقریب کی نظامت استاد رتنیش کمار نے انجام دی۔ اس موقع پر سرپنچ ویرندر رائے، ایڈووکیٹ محمد رضا، شمشیر احمد، شبیر احمد، پرنسپل پرویر ٹھاکر، محمد نوشاد، انیل رائے، رویندر رائے، ڈاکٹر صلاح الدین، استاد بیرچندر ساہ، منصور عالم سمیت اسکول کے اساتذہ، سرپرست، مقامی دانشور اور بڑی تعداد میں معزز شہری موجود تھے۔