تاثیر 26 جولائی ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
سی سی ٹی وی سے 8 چہرے بے نقاب، انعام کا اعلان، پولیس کی تابڑ توڑ چھاپہ ماری
مظفرپور: (نزہت جہاں)
دہلی میں مظاہرین کے خلاف درج مقدمات واپس لینے کی خبروں کے درمیان مظفرپور پولیس نے واضح کر دیا ہے کہ سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے والے کسی بھی شرپسند کو بخشا نہیں جائے گا۔ کلکٹریٹ احاطے میں ہوئے ہنگامے کے بعد پولیس نے سخت کارروائی شروع کر دی ہے۔ نیٹ (NEET) پیپر لیک معاملے پر ہونے والے پرتشدد احتجاج میں شامل 100 سے زائد افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ پولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے آٹھ اہم شرپسندوں کی تصاویر جاری کر دی ہیں۔ ان کی شناخت بتانے یا گرفتاری میں مدد کرنے والوں کے لیے انعام کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔ خصوصی پولیس ٹیموں نے کانٹی، مسہری، اہیاپور، بوچہاں، منیاری، بھگوان پور، مٹھن پورہ اور چندوارہ سمیت متعدد علاقوں میں رات بھر چھاپہ ماری کی، تاہم خبر لکھے جانے تک کسی گرفتاری کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ تحقیقات کے دوران پولیس کو اطلاع ملی کہ مٹھن پورہ کے ایک ہاسٹل میں رہنے والی ایک طالبہ بھی احتجاج میں شامل تھی، لیکن پولیس کے پہنچنے سے پہلے ہی وہ فرار ہو چکی تھی۔ ایف آئی آر درج ہونے اور تصاویر منظر عام پر آنے کے بعد کئی ملزمان روپوش ہو گئے ہیں۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ تمام ملزمان کو گرفتار کرکے جیل بھیجا جائے گا۔ انتظامیہ نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ کلکٹریٹ اور دیگر سرکاری املاک کو پہنچنے والے نقصان کی تلافی بھی انہی ملزمان سے کرائی جائے گی۔ قانون اپنے ہاتھ میں لینے والوں کے ساتھ کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی۔

