ڈِ لیمیٹیشن بل اورتذبذب کی سیاست

تاثیر 15 جولائی ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

ڈ ِلیمیٹیشن بل اور خواتين تحفظ بل نے ان دنوں ملک کی سیاست میں ہلچل مچا رکھی ہے۔ آئندہ مانسون سیشن سے قبل شرد پوار کی قيادت والی نیشنلسٹ کانگريس پارٹی (ایس پی) کے ممکنہ موقف کو لے کر قیاس آرائیاں زوروں پر ہیں۔ البتہ پارٹی کی قائم مقام صدر اور لوک سبھا رکن سپریا سولے نے واضح کر دیا ہے کہ اس سلسلے میں ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہو ا ہے۔ بل کی نقل ملنے کے بعد پارٹی 24 گھنٹوں کے اندر اپنا آئینی موقف طے کر ے گی۔
سپریا سولے نے ممبئی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کل کہا کہ مختلف اخبارات اور چینلز کے ذریعہ جو رپورٹس سامنے آئی ہیں وہ صرف ذرائع کے حوالے سے ہیں۔ پارٹی نے کوئی آفیشل بیان جاری نہیں کیاہے۔ انہوں نے مہا وکاس آگھاڑی(ایم سوی اے) کے رہنماؤں سے بھی مشاورت کی ہے۔ ان کا یہ بھی یہی کہنا ہےکہ اگر بل میں تمام ریاستوں میں لوک سبھا سیٹوں میں 50 فیصد اضافے کا واضح انتظام کیا جائے تو پارٹی اس پر غور کر سکتی ہے۔واضح ہو کہ یہ بات نہ صرف این سی پی (ایس پی) بلکہ دیگر اپوزیشن پارٹیوں، جیسے ڈی ایم کے اور ترنمول کانگريس، کی طرف سے بھی کہی جا چکی ہے۔
حکومت (بی جے پی کی قیادت والی این ڈی اے) کا موقف یہ ہے کہ ڈِ لیمیٹیشن بل 2026 قومی سطح کا ایک جامع عمل ہے، جو آبادی کے تناسب کے مطابق لوک سبھا کی نشستیں دوبارہ ترتیب دے گا۔وزیر داخلہ امیت شاہ نے اپریل کے خصوصی سیشن میں یہی یقین دہانی کرائی تھی کہ جنوبی ریاستوں کے ساتھ کوئی ناانصافی نہیں ہوگی۔موجودہ صورتحال میں جنوبی ریاستوں کے پاس لوک سبھا کی 129 نشستیں ہیں، جو اس بل کے نفاذ کے بعد بڑھ کر 195 ہو سکتی ہیں۔ البتہ اپوزیشن کا الزام ہے کہ شمالی ریاستوں کی تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کی وجہ سے سیاسی طاقت کا توازن شمال کی طرف جھک سکتا ہے۔
این سی پی (ایس پی) کی موجودہ پوزیشن دلچسپ ہے۔ بجٹ سیشن میں پارٹی نے اس بل کے خلاف ووٹ دیا تھا، مگر اب مشروط حمایت کا اشارہ دیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ پارٹی کے کچھ ایم ایل ایز اور رہنماوں کی جانب سے بھی این ڈی اے کی طرف جھکاؤ کی باتیں سامنے آ رہی ہیں۔ گزشتہ روزپارٹی کے ریاستی صدر جینت پاٹل کی دیوندر فڑنویس سے ملاقات اور دیگر رہنماؤں کی سرگرمیوں نے ان قیاس آرائیوں کو کچھ زیادہ ہی ہوا دے دی ہے۔حالانکہ شیو سینا (یو بی ٹی) کے رہنما سنجے راوت نے بھی ان افواہوں کی تردید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انڈیا بلاک کے تمام اتحاد ی گروپ اجتماعی طور پر فیصلہ کریں گے۔ راوت کا یہ بھی کہنا ہے کہ پارٹی کے کچھ ارکان کی این ڈی اے میں جانے کی خواہش کے باوجود شرد پوار گروپ کا بنیادی موقف واضح ہے۔
ظاہر ہے ،یہ صورتحال مہاراشٹر کی سیاست کے لئے بے حداہم ہے۔ این سی پی (ایس پی) کے پاس صرف 10 ایم ایل ایز اور 8 لوک سبھا ارکان ہیں۔ این ڈی اے کو بل پاس کرانے کے لئے اضافی حمایت درکار ہے۔عین موقع پر کیا صورتحال ہوگی ، اس سلسلے میں ابھی کچھ بھی نہیں کہا جا سکتا ہے۔ہاں، اگر این سی پی بل کی مشروط حمایت کرتی ہے تو ظاہر ہے اس سے مہاراشٹرکے سیاسی توازن متاثر ہو سکتا ہے۔
  ڈ لیمیٹیشن بل جمہوری نظام کا ایک حصہ ہے۔اس کا مقصد آبادی کے مطابق عوامی نمائندگی کا تعین ہے۔ مگر اس میں علاقائی عدم توازن کا خطرہ بھی ہے۔ جنوبی ریاستیں اسے اپنے خلاف سمجھتی ہیں۔ این سی پی (ایس پی) کا تذبذب پارٹی کی اندرونی تقسیم اور عملی سیاست دونوں کو ظاہر کرتا ہے۔ ایک طرف ایم وی اے کے ساتھ وفاداری کا معاملہ ہے تو دوسری طرف ترقیاتی ضروریات ہیں۔ ایسے میں حکومت کو چاہئے کہ بل لاتے وقت تمام ریاستوں کےتقاضوں کو مدنظر رکھے اور اتفاق رائےسے مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کرے۔ اپوزیشن کو بھی اندھی مخالفت سے بالاتر ہو کر قومی مفاد پر غور کرنا چاہئے۔گرچہ ابھی سپریا سولے کی وضاحت نے فوری طور پر افواہوں پر بریک لگا دی ہے، مگر اصلی تصویر اگلے مانسون سیشن میں ہی سامنے آ سکے گی۔ ویسے ایماندارکی بات تو یہی ہے کہ ڈ لیمیٹیشن بل کو سیاسی ہتھیار بنانے کے بجائے ایک شفاف اور منصفانہ طریقے سے روبہ عمل لانا سب کی ذمہ داری ہے۔
*****