ایران کے کئی شہروں میں امریکی حملے کے باعث دھماکے 

تاثیر 20 جولائی ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

تہران/واشنگٹن، 20 جولائی: آبنائے ہرمز کے معاملے پر امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث مغربی ایشیا میں حالات انتہائی نازک ہو گئے ہیں۔ امریکی فضائی حملوں کے نتیجے میں ایران کے کئی شہروں میں دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ عراق میں ایک ڈرون حملے میں امریکی فوجی کی ہلاکت کے بعد صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے۔ اسی دوران لبنان کے صدر اعلیٰ امریکی حکام سے بات چیت کے لیے واشنگٹن پہنچ گئے ہیں۔ ایران نے امریکہ پر اپنے دارخوین جوہری بجلی گھر پر حملے کا الزام عائد کیا ہے۔
الجزیرہ، سی این این، سی بی ایس اور اے بی سی نیوز کی رپورٹس کے مطابق امریکی سینٹرل کمان (سینٹ کام) نے کہا ہے کہ اس کی افواج نے اتوار کی شام ایران کے خلاف حملوں کا ایک اور مرحلہ شروع کیا۔ امریکی فوج نے مسلسل نویں رات فضائی حملے کیے اور یہ کارروائیاں جاری رہیں گی۔ دوسری جانب عراق میں ایرانی ڈرون سے متعلق ایک واقعے میں ایک امریکی فوجی ہلاک جبکہ دوسرا زخمی ہو گیا۔ اس کے بعد امریکہ نے ایران پر مزید فضائی حملے کیے۔ اسی دوران لبنان کے صدر کے دور? واشنگٹن نے بھی توجہ حاصل کر لی ہے۔
سینٹ کام کے مطابق شمالی عراق میں مار گرائے گئے ایک ایرانی ڈرون کے دھماکہ خیز مواد کو محفوظ طریقے سے ناکارہ بنانے کے دوران ایک امریکی فوجی ہلاک ہوا، جبکہ ایک اور فوجی زخمی ہو گیا جس کا علاج جاری ہے۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ 28 فروری سے شروع ہونے والے تنازع کے بعد اب تک 17 امریکی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔ ایران کے دعوے نے عالمی سطح پر تشویش پیدا کر دی ہے۔