درمیانی راستہ نکالنا ضروری

تاثیر 18 جولائی ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

نیٹ امتحان میں مبینہ دھاندلیوں کے خلاف دہلی کےجنتر منتر پر سونم وانگچک کی 21 دنوںسے جاری غیر معینہ مدت بھوک ہڑتال ایک بار پھر پورے ملک کی توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔کل سنیچر کی صبح سویرے دہلی پولیس نے ہائی کورٹ کے حکم اور ڈاکٹروں کی رائے پر  انہیں جنتر منتر سے اٹھا کرصفدرجنگ ہسپتال میں ایڈ مٹ کر دیا۔پولیس کے اس قدم نے نہ صرف احتجاجیوں میں غم و غصہ بھڑکا دیا بلکہ پورے ملک میں بحث چھیڑ دی ہے۔ عام لوگ بھی یہ بات کہہ رہے ہیں کہ پرامن احتجاج ایک جمہوری عمل ہے، اسے جبراََ روکنا قطعی مناسب نہیں ہے۔
دنیا جانتی ہے،سونم وانگچک ایک معروف سماجی کارکن اور ماحولیاتی سائنسداں ہیں۔وہ  لداخ سے تعلق رکھتے ہیں۔انھوںنے طلبہ کے مستقبل کی حفاظت کے لئے بھوک ہڑتال کا سخت راستہ اختیار کیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق 20 دنوں کی بھوک ہڑتال میں ان کا وزن 9 کلو گرام کم ہو گیا تھا۔ ڈاکٹروں نے خبردار کیا تھا کہ پوٹاشیم کی سطح خطرناک حد تک گر چکی ہے۔اب اسپتال کا کہنا ہے کہ ان کی حالت مستحکم ہے اور وہ ہوش میں ہیں، تاہم نگرانی جاری ہے۔ سونم کی اہلیہ گیتانجلی نے کل ہی یہ صاف صاف کہہ دیا تھا کہ بغیر ان کی اور ڈاکٹروں کی رضامندی کے انھیں کوئی دوا یا خوراک نہیں دی جائے۔ ان کا الزام ہے کہ انھیں جنتر منتر سے اٹھا کر ہسپتال لائے جانے کی کارروائی جبری تھی۔جبکہ دہلی پولیس کا موقف ہے کہ یہ اقدام عدالت کے حکم پر کیا گیا تاکہ جان کو خطرہ نہ ہو۔ سونم وانگچک کو جنتر منتر سے اٹھاکر ہسپتال لے جانے کے دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان شدید جھڑپ بھی ہوئی ۔ پولیس اہلکاروں کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے تحمل سے کام لیا، البتہ ہلکی جھڑپ ضرور ہوئی۔ تاہم احتجاجیوں کا کہنا ہے کہ پولیس نے ان کے ساتھ مارپیٹ بھی کی۔
دوسری جانب، کل سونم وانگچک کو جنتر منتر سے اٹھائے جانے کے فوراً بعد کاکروچ جنتا پارٹی کے ابھیجیت دیپکے نے بھوک ہڑتال شروع کر دی تھی۔اس سے پہلے ان پر سیاہی پھینکی گئی۔سیاہی پھینکنے والی ایک خاتون تھی، جس کو پولیس نے فوراََ حراست میں لے لیا ۔ ابھیجیت وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کے ساتھ ساتھ اب وزیراعظم سے بھی استعفیٰ کا مطالبہ کر دیا ہے۔ان کا دعویٰ ہے کہ 20 جولائی کو’’چلو پارلیمنٹ‘‘ مارچ پہلے سے طے شدہ پروگرام کے مطابق منعقد ہو گا۔ اس مارچ میں بڑی تعداد میں شرکت کے لئے سونم وانگچک نے بھی عوام سے اپیل کی تھی۔
اس معاملے کو لیکر اپوزیشن جماعتوں نے اپنے شدید رد عمل کا اظہار کیا ہے۔اروند کیجریوال، سنجے سنگھ، ڈمپل یادو اورآدیتیہ ٹھاکرے سمیت کئی رہنماؤں نے اسے’’جمہوریت پر حملہ‘‘ اور’’سرکاری اہنکار‘‘ سے تعبیر کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مطالبات سننے کی بجائے پر امن احتجاج کو کچلنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔جبکہ ماہرین کا ماننا ہے کہ نیٹ جیسے اہم امتحان میں دھاندلی کے الزامات لاکھوں طلبہ کے مستقبل سے جڑے ہیں۔ نوجوانوں میں بے چینی بڑھ رہی ہے۔ حکومت کو اسے سنجیدگی سے لینا چاہئے۔ معاملے کی شفاف تفتیش اور تعلیمی نظام میں بہتری ضروری ہے۔ طلبہ کے دردکو نظر انداز کرنا ملک کے لئے بہتر نہیں ہے۔لیکن دوسری طرف، بھوک ہڑتال جیسے طریقے بھی صحت کے لئے جان لیوا ہو سکتے ہیں۔ عدالت اور ڈاکٹروں کی مداخلت کو انسانی جان بچانے کا اقدام سمجھا جا سکتا ہے۔ لیکن کارروائی کے انداز اور وقت کو دیکھا جائے ایک سوال ضرور اٹھے گا کہ کیا صبح سویرے پولیس کے ذریعے احتجاجیوں کو ہٹانا واحد راستہ تھا؟  ان سے خوش گوار انداز میں گفتگو بھی تو ہو سکتی تھی۔
ہمارا آئین اظہار رائے اور پر امن احتجاج کی آزادی دیتا ہے۔سونم وانگچک جیسے کارکن جب کچھ کہہ رہے ہیں تو انھیں ضرور سننا چاہئے۔ اس کے علاوہ حکومت کو چاہئے کہ وہ فوری طور پر طلبہ کے نمائندوں سے گفتگو کرے، نیٹ معاملے کی عدالتی انکوائری کرائے اور تعلیم کے شعبے میں اعتماد بحال کرے۔ احتجاج کرنے والوں کو بھی اپنی ذمہ داری نبھانی چاہئے کہ احتجاج ہر طرح سے پرامن رہے۔اگر حکومت اور مظاہرین دونوں فریق حوصلے اور دانشمندی سے پیش آئیں تو درمیانی راستہ ضرور نکل سکتا ہے۔ حکومت کو تعلیمی نظام میں شفافیت لانے کے لئےٹھوس اقدامات ضرور کرنے چاہئیں۔ عدالتی جانچ اور اصلاحات طلبہ کے اعتماد کو بحال کر سکتی ہیں۔
**********