پرامن احتجاج جمہوری حق ہے

تاثیر 26 جولائی ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

نیٹ پیپر لیک کے خلاف ملک بھر میں اٹھنے والی طلبہ تحریک نے جمہوری حقوق اور انتظامی توازن کے بنیادی سوالات کو سامنے لا دیا ہے۔ دہلی کے جنتر منتر سے لے کر بہار کے سیوان تک، طلبہ نے امن پسندانہ طور پر اپنی آواز بلند کی، لیکن متعدد مقامات پر پولیس کارروائی نے صورتحال کو شدید تناؤ میں بدل دیا۔ ان واقعات کے تناظر میں سپریم کورٹ کے ایک حالیہ تبصرے نے نہ صرف اہم بلکہ آئینی روح کی یاد تازہ کر دی ہے۔
چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس سوریہ کانت نے معاملے کی سنوائی کرتے ہوئے کل سوموار کو واضح طور پر کہا کہ’’پر امن اور قانون کے مطابق مظاہرے کا حق آئین کے تحت محفوظ ہے اور صرف تحریک کرنے کی بنیاد پر لاٹھی چارج کو درست نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔‘‘ عدالت نے مزید کہا کہ جب تک احتجاج پرامن رہے، صرف اس بنیاد پر کہ تحریک ہو رہی ہے، غیر ضروری طاقت کا استعمال جائز نہیں ہے۔ اگر کوئی زیادتی ہوئی ہے تو اس کی آزادانہ تفتیش ضروری ہے۔ عدالت نے ملک بھر میں احتجاجوں سے نمٹنے کے لئے یکساں معیاری طریقہ کار(ایس او پی) تیار کرنے کی جانب توجہ دلائی ۔ یہ تبصرہ تحریک کار طلبہ و نوجوانوں پر پولیس مظالم سے متعلق دہلی سمیت ملک کی مختلف ریاستوں سے موصول ہونے والی عرضیوں کے تناظر میں سامنے آیا ہے، جن میں ریاست بہار کےسیوان ضلع ہیڈ کوارٹر میں اے کے-47 کے مبینہ استعمال کا ذکر بھی شامل ہے۔
سیوان میں گزشتہ 25 جولائی کو بہار بند کے دوران ایک پولیس اہلکار نے طلبہ پر اے کے-47 سے فائرنگ کردی تھی۔ اس میں  تین طلبہ زخمی ہوئے۔ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد متعلقہ پولیس جوان ابھیشیک کمار پٹیل کو معطل کر دیا گیا اور اس کے خلاف محکمہ جاتی کارروائی شروع کر دی گئی۔ دہلی میں بھی لاٹھی چارج کے دوران طلبہ اور پولیس اہلکار دونوں زخمی ہوئے تھے۔ عدالت نے دونوں اطراف کی چوٹوں کو یکساں طور پر اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر زندگی قیمتی ہے اور پولیس کو مناسب حفاظتی سازوسامان مہیا کیے جانے چاہئیں۔
اِدھرجنتر منتر پرچلی تحریک کے خاتمے کے بعد ملک کے مختلف شہروں سے مل رہی خبریں بے حد تشویش ناک ہیں۔ طلبہ اور نوجوانوں کی گرفتاریاں دھڑلے سے ہو رہی ہیں اور انھیںآئینی عہدہ سنبھال رہے لوگوں کے ذریعہ مبینہ طور پر کھلے عام یہ دھمکیاں دی جا رہی ہیں کہ ’’ایسا سبق سکھایا جائے گا کہ تمہاری تین نسلیں یاد رکھیں گی۔‘‘گرفتار ہونے والوں میں مسلمانوں کی تعداد نسبتاً زیادہ بتائی جا رہی ہے۔ظاہر ہے،یہ صورتحال سنگین سوال اٹھاتی ہے۔ تحریک سے لوٹے ہوئے طلبہ اور نوجوانوں کے خلاف پولیس کارروائی کی حمایت نہ تو ہمارے وطن عزیز بھارت کا آئین کرتا ہے اور نہ ہی سپریم کورٹ کی ہدایت۔ پرامن احتجاج کے بعد انتقامی گرفتاریاں یا دھمکیاں جمہوری اصولوں کے منافی ہیں۔ آئین ہر شہری کو اظہارِ رائے اور پرامن احتجاج کا حق دیتا ہے، جبکہ عدالت نے واضح کر دیا ہے کہ صرف تحریک کی بنیاد پر طاقت کا استعمال ناجائز ہے۔
اس کے ساتھ ہی طلبہ رہنماؤں کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ایسے مسائل کو ترجیحی بنیاد پر دیکھیں اور جمہوری طریقے سے انھیں حل کی کوشش کریں۔ احتجاج پرامن رہے، تشدد سے اجتناب کیا جائے اور قانونی راستوں کو ترجیح دی جائے۔ پولیس اہلکاروں کی حفاظت بھی ضروری ہے، لیکن طاقت کا غیر متناسب استعمال ہر گز قابلِ قبول نہیں ہے۔
بہر حال سپریم کورٹ کی مداخلت اور ایس ا و پی کی ضرورت اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ احتجاجوں سے نمٹنے کا طریقہ کار شفاف، یکساں اور آئینی حدود کے اندر ہونا چاہئے۔ آزادانہ تفتیش، دونوں اطراف کے حقوق کا احترام اور سیاسی مداخلت سے پاک کارروائی ہی جمہوریت کو مضبوط بنا سکتی ہے۔ طلبہ کی آواز کو دبانے کے بجائے ان کے جائز مطالبات پر توجہ دینا وقت کی ضرورت ہے۔ آئین کی اجازت اور عدالت کی وضاحت دونوں اعتبار سے یہ واضح ہے کہ پرامن احتجاج جمہوری حق ہے، اسے پولیسیا طاقت سے نہیں کچلا جا سکتا ہے۔
******