تاثیر 4 جولائی ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
وزیراعظم نریندر مودی کی تیسری حکومت کو اقتدار سنبھالے تقریباً ایک سال ہوچکا ہے۔ مرکزی کابینہ میں کوئی بڑی توسیع ابھی تک نہیں ہوی ہے۔ سیاسی حلقوں کے مطابق، یہ توسیع پارلیمنٹ کے مانسون سیشن کے بعد ہی ممکن ہے۔مانسون سیشن 20 جولائی سے شروع ہونے والے ہے، جو 13 اگست تک چلے گا۔ فی الحال حکومت کی توجہ اہم آئینی ترامیم کے لئے دو تہائی اکثریت حاصل کرنے اور علاقائی جماعتوں سے سیاسی حمایت جٹانے کی حکمت عملی پر مرکوز ہے۔
مانسون سیشن سے قبل حکومت کی ترجیحات واضح ہیں۔ خواتین تحفظ بل اور حدبندی سے متعلق آئینی ترامیم کے لئے دو تہائی اکثریت درکار ہے۔ اس مقصد کے لئے حکومت غیر کانگریسی جماعتوں، خصوصاً ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی)، شیو سینا (یو بی ٹی)، عام آدمی پارٹی (اے اے پی) اور دیگر علاقائی پارٹیوں جیسے وائی ایس آر سی پی، بی آر ایس اور ڈی ایم کے سے رابطہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ حال ہی میں ٹی ایم سی اور دیگر جماعتوں میں ہو ئی تقسیم سے حکومت کو تھوڑی بہت سہولت ضرور فراہم ہوگی۔ اس پس منظر میں کابینہ توسیع کو مانسون سیشن کے بعد موخر کرنے کا فیصلہ منطقی لگتا ہے، کیونکہ سیشن کے دوران توجہ قانون سازی اور سیاسی ہنگامہ آرائی پر رہے گی۔
مودی حکومت کے 12 سالہ دور میں کابینہ میں تبدیلیاں عموماََ ہوتی رہی ہیں۔ پہلے دورِ حکومت (2014-19) میں تین بار کابینہ کی توسیع ہوئی تھی۔مگر دوسرے دور (24۔2019) کا سب سے بڑا توسیع جولائی 2021 میں ہو تھاا، جس میں 43 وزراء شامل ہوئے اور 12 بڑے ناموں کو الوداع کہا گیا،ان میں روی شنکر پرساد، ہرش وردھن اور پرکاش جاوڑ کر شامل تھے۔ ان تبدیلیوں کا مقصد عموماً کارکردگی بہتر کرنا، علاقائی توازن برقرار رکھنا اور نئے چہروں کو موقع دینا رہا ہے۔مودی حکومت کا تیسرا دور ابھی تک اس حوالے سے خاموش ہے۔ کچھ تجزیہ کاروں کے مطابق حد درجہ احتیاط اور منصوبہ بندی کے تقاضے کی وجہ سے ایسا ہو رہا ہے۔
حکومت کا موقف ہے کہ کابینہ توسیع سے قبل وزارتوں کے درمیان ہم آہنگی کو مزید مضبوط بنانا ضروری ہے۔ حال ہی میں کابینہ میٹنگ میں وزیراعظم نے یوجی ۔نیٹ امتحان کے کامیاب انعقاد اور مختلف وزارتوں کے باہمی تعاون کی تعریف کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لئے ہم آہنگی بے حد ضروری ہے۔ ظاہر ہے، پچھلے برسوں میں کئی وزارتیں ،خاص طور پر تعلیم، صحت اور داخلہ، تنازعات کے درمیان رہی ہیں۔تاہم، اپوزیشن کی تنقید بھی اہم ہے۔ کانگریس اور دیگر جماعتیں نیٹ پیپر لیک، رام مندر کے چندے کی چوری اور دیگر مسائل پر سیشن کے دوران ہنگامہ آرائی کی تیاری کر رہی ہیں۔ ان کا الزام ہے کہ حکومت ترجیحات میں غلطی کر رہی ہے۔ آئینی ترامیم کے ذریعے طاقت کو مزید مرتکز کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ علاقائی جماعتوں کے ساتھ جاری گفت و شنید کو بھی ’’خرید و فروخت کی سیاست‘‘ قرار دیا جا رہا ہے۔
مانا جا رہا ہے کہ مرکزی کابینہ کی ممکنہ توسیع بی جے پی کی تنظیم نو اور تیسری مدت کی کارکردگی کے لئے بے حد اہم ہوگی۔ نئی ٹیم میں نوجوان، خواتین اور مختلف علاقوں کی نمائندگی پر توجہ متوقع ہے۔ مودی حکومت کا تجربہ بتاتا ہے کہ کابینہ کی توسیع محض چہروں کی تبدیلی نہیں بلکہ سیاسی، انتظامی اور انتخابی حکمت عملی کا حصہ ہوتی ہے۔ مانسون سیشن کے نتیجے اس توسیع کی نوعیت اور وقت کا تعین کریں گے۔ اگر حکومت دو تہائی اکثریت حاصل کر لیتی ہے تو اسے آئینی ایجنڈے کو آگے بڑھانے میں سہولت ملے گی۔ویسے بھارت جیسی بڑے جمہوریت میں کابینہ کی تشکیل اور توسیع نہ صرف حکمرانی کی کارکردگی بلکہ وفاقی ڈھانچے اور علاقائی توازن کی عکاسی بھی کرتی ہے۔بہر حال آنے والے دنوں میں دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ مودی حکومت اپنے تیسرے دور اقتدار کے ترقیاتی سفر کو کس حکمت عملی کے ساتھ آگے بڑھاتی ہے۔
****

