تاثیر 19 جولائی ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
نئی دہلی ، 19 جولائی: جنتر منتر پر تقریباً 20 دنوں سے بھوک ہڑتال پر بیٹھے سونم وانگ چک کی بیوی گیتانجلی آنگمو نے دہلی ہائی کورٹ سے رجوع کیا ہے۔ انہوں نے ایک عرضی دائر کی ہے جس میں وانگ چک کی صفدرجنگ اسپتال سے فوری رہائی یا کسی اور اسپتال میں منتقلی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ گیتانجلی نے الزام لگایا ہے کہ وانگ چک کو ان کے خاندان، وکیلوں اور ذاتی ڈاکٹروں سے الگ رکھ کرغیر قانونی طور پر حراست میں لیا جا رہا ہے۔ عرضی پر آج یعنی 19جولائی کو ہی فوری طور پر سماعت کی درخواست کی گئی ہے۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ سونم وانگ چک کو 18 جولائی کی صبح دہلی پولیس نے جنتر منتر سے زبردستی اٹھالیا اور ان کی رضامندی کے بغیر صفدرجنگ اسپتال لے گئی۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ سونم وانگ چک کو فوجداری مقدمہ درج کیے بغیر یا گرفتاری یا احتیاطی کارروائی کے عدالتی حکم کے بغیر اسپتال میں مسلسل نظربند رکھنا غیر قانونی ہے۔ انہیں طبی مداخلت کی آڑ میں حراست میں لیا گیا ہے،ایسا صرف انہیں پرامن احتجاج سے ہٹانے کے لیے کیا گیا ہے۔درخواست میںکہا گیا ہے کہ دہلی پولیس نے سونم وانگ چک کی صحت کی نگرانی کے لیے دہلی ہائی کورٹ کے حکم کی آڑ میں کام کیا ، اس حقیقت کے باوجود کہ دہلی ہائی کورٹ نے ان کی صحت کی مسلسل نگرانی کا حکم دیا تھا۔ انجلی کی درخواست میں کہا گیا ہے کہ سونم وانگ چک کو ہائی کورٹ میں دائر درخواست میں فریق نہیں بنایا گیا ہے۔

